پاکستان عوامی اتحاد کا اعلامیہ

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

18 مارچ 1998ء کو پاکستان عوامی اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں جملہ سربرا ہان کی موجودگی میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں یہ تاریخی اعلامیہ پیش کیا۔

قرارداد تاسیس[ترمیم]

1997ء کے انتخابات کے ذریعے جعلی مینڈیٹ دلوا کر خفیہ ایجنڈا کی تکمیل کے لیے پاکستان کی تاریخ میں سب سے مضبوط پارلیمارنی قوت کی حامل حکومت بنادی گئی۔ جس کے بعد پاکستانی عوام نے بجاطور پر حالات میں مثبت انقلابی تبدیلی کی توقعات وابستہ کیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نےبھی انتخابات کے بارے میں اپنے تمام تر تحفظاحت کے باوجود حکومت کو پوری آزادی کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا۔ لیکن ایک سال سے زائد عرصہ کی کارکردگی نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ حکومت کا عوامی فلاح یاملکی استحکام کا سرے سے کوئی ایجنڈا ہی نہیں البتہ خفیہ ہاتھوں کا ایجنڈا ضرور دکھائی دیتا ہے جس کی تکمیل کے لئے اس قدر بھاری مینڈیٹ دلایا گیا یہ خفیہ ایجنڈا کشمیر کا مسئلہ دفن کرانے، اییم، صلاحیت پر سودے بازی اور پورے ملک کو برائے فروخت پیش کرنے کا ایجنڈا ہے۔

چاہئے تو یہ تھا کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جاتا لیکن اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ یوٹیلٹی بلز یعنی بجلی، پانی، گیس وغیرہ میں ظالمانہ اضافے کے ذریعے غریب کو نصیب چند نوالے بھی چھینے جارہے ہیں روزگار کی فراہمی کی بجائے ڈاؤن سائزنگ اور گولڈن ہینڈ سیک کے نام پر بے روزگاری میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کسانوں کو ریلیف دینے کی بجائے ان پر ٹیکسوں کی بھرمار کی جا رہی ہے۔ فرقہ واریت پر موثر کنٹرول کی بجائے خطبات جمعہ پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے نام پر ملک کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے۔

آج ملک میں کسی کی بھی جان، مال اور عزت وآبرو محفوظ نہیں۔ ریاستی ادارے بھی حکومت کی زد میں آکر تباہی کاشکار ہو رہے ہیں حتیٰ کہ اسی حکومت نے دہشت گردی کے ذریعے سپریم کورٹ کا تقدس بھی پامال کیا۔

خارجہ پالیسی میں حکومت کو ناکامی سامنا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈال کرکشمیری شہیدوں کے خون سے غداری کی جارہی ہے۔ بھارت کی طرف سے بار بار دھمکیوں کے باوجود اس سے یکطرفہ دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ مغربی طاقتوں کے دباؤ پر کیمیائی ہتھیاروں کے کونشن پر یکطرفہ دستخط کر کے ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ Challenged Inspection کو قبول کیا گیا ہے مزید براں نواز شریف کی اس Ratificationکی بنیاد پر بیرونی طاقتیں ہمارے حساس مقامات کو کمزور بنایا جا رہا ہے نتیجہ بین الاقوامی میدان میں پاکستان تنہا نظر آتا ہے۔

حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث ریاستی ادارے تباہی سے دوچار ہیں، پوراسسٹم معطل ہو چکا ہے اور ملکی سلامتی اور بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

اب اس حکومت کو مزید مہلت دینا ملکی سلامتی سے کھیلنے کے متراد ف ہو گا۔ وقت کا تقاضا تھا کہ مثبت سوچ کی حامل تمام قوتیں باہم یک جا ہو کر قوم کو موجودہ صورت حال سے آگاہ کریں حالات میں بہتری کے لئے قوم کو منظم کریں اور قوم کو اجتماعی قیادت اور نئے انقلابی پروگرام سے روشناس کرئیں۔

لہٰذا درج دیل جماعتوں پر مشتمل پاکستان عوامی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یہ اتحاد محض موجود حکومت کو ہٹانے تک نہیں بلکہ اتحاد کے مقاصد کی تکمیل تک مستقل قائم رہے گا۔ بعد ازاں مزید جماعتوں کو بھی اتحاد میں شامل کیا جا ئے گا۔

آرٹیکل نمبر 1-اسلامک سوشل آرڈر کا قیام[ترمیم]

  1. تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنائے جائیں گے تاکہ ایک ایساصالح انسانی معاشرہ قائم ہو جس کی بنیاد اسلام، جمہوریت اور مساوات محمدی ﷺ پر ہو۔
  2. جو جبروتشدد اور ظلم و استحصال کی ہر شکل سے پاک انسانی آزادی، معاشی عدل اور سماجی مساوات کا ضامن اور باہمی بقاء و احترام کے ساتھ عالمی امن کے قیام کا داعی ہو۔
  3. جس میں بلا امتیاز رنگ و نسل اور طبقہ و مذہب تمام افراد کے بنیادی انسانی و شہری حقوق کا تحفظ ہو۔
  4. جس میں فرعونیت و شخصی آمر یت کی ہر شکل کا اس طرح خاتمہ ہو کہ کبھی بھی عوام کی مرضی کے خلاف مطلق العنان حکومت یا بادشاہت کا قیام ممکن نہ رہے۔
  5. جس میں قارونیت کی ہر شکل کا اس طرح خاتمہ ہو کہ ارتکازر پر مبنی جاگیردار نہ اور سرمایہ دار نہ معاشی ڈھانچے کی بجائے دولت کی منصفانہ تقسیم کا نظام رائج ہو تا کہ ہر شخص کو باعزت زندگی کی تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ضمانت مل سکے۔
  6. معاشرے میں مساوات محمدی ﷺ کے قیام کے لئے نظامِ زکوٰۃ کو حقیقی روح کے ساتھ اجاگر کر کے اسے غریب اور مفلس طبقات کی زندگیوں میں با عزت معاشی انقلاب کی بنیاد بنایا جا ئےگا تا کہ کو ئی فرد کسی فرد کا استحصال کرے نہ کسی کی زندگی معاشی جمودوتعطل کا شکار ہو۔
  7. مسلما نوں کے تمام مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جائے گی اور ان کی مسلکی و تبلیغی سرگرمیوں کو انتہاء پسندی اور فرقہ وارنہ رجحانات سے پاک کیا جائے گا تا کہ مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکے۔

آرٹیکل نمبر2-تعلیم، صحت، روزگار اور مہنگائی[ترمیم]

  • شہریوں کو جان و مال، عزت و آبرو کے تحفط، تعلیم، صحت، روزگار، رہائش کی فراہمی، ریاست/حکومت کی اولین ترجیح ہو گی۔

تعلیم[ترمیم]

  1. میڑک تک تعلیم لازم ہو گی۔
  2. مستحق افراد کو مفت تعلیم مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔
  3. حکومت غیر تجارتی بنیادوں پر فروغ تعلیم کے لئے مصروف عمل غیر سرکاری تنظیمات سے بھر پور تعاون کرے گی۔
  4. تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا کیونکہ تعلیم یافتہ اور صحت مند قوم کے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔
  5. جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نصابِ تعلیم ملک بھر میں رائج کیا جائے گا۔
  6. سائنس، ٹیکنالوجی اور کیمپوٹر کی تعلیم کو اولیت دی جا ئے گی۔ طلبا کی تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بھی ٹھوس مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
  7. دینی مدارس کے نصابات کو جدید دور کے عصری سماجی اور سائنسی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا تا کہ ان کا علمی، فکری اور تحقیقی ارتقاء بحال ہو۔

صحت[ترمیم]

  1. قومی بینادوں پر ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا جا ئے گا۔
  2. تحصیل کی سطح پر ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات مہاکی جائیں گی اور ہر گاؤں میں طبی سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔
  3. بزرگ افراد کے لئے اولڈہاؤس اور یتیم/نادار بچوں کے لئے جدید طرز کے ہاسٹلز قائم کئے جائیں گے۔
  4. مستحق بیواؤں، یتیموں اور بزرگ شہریوں کی کفالت کی ذمہ داری ریاست پر ہو گی۔
  5. آلودگی سے پاک صاف ستھراماحول اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائےگا۔

بے روزگاری[ترمیم]

  1. روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
  2. بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے گھریلو دستکاری اور کاٹج انڈسڑی کو فروغ دیا جائے گا۔
  3. ڈاؤں سا ئزنگ کو فوری طور پر معطل کر یا جائے گا متبادل روزگار کی فراہمی کےبغیر کسی کو ملازمت سے نہیں نکالا جائے گا۔ ملازمتوں سے جبری یا نا جائز طریقے سے نکالے گئے افراد کو بحال کر دیا جائے گا۔
  4. پروفیشنل تعلیم یا فتہ نو جوانوں کو روزگا رمہیا نہ ہونے کی صورت میں گزارہ الاؤنس دیا جائےگا۔

مہنگائی[ترمیم]

  1. آئی-ایم-ایف اور ورلڈ بنک کے دباؤ کے تحت قومی پالیسیاں مرتب نہیں کی جائیں گی۔
  2. ہنگامی بنیاد پر ریاستی اور انتظامی اخراجات کو کم کیا جائے گا۔
  3. افراط زر کو کنڑول کر کے پاکستانی روپے کی قیمت کو مستحکم کیا جائے گا۔
  4. ذخیرہ اندوزی، سمگلنگ اور نا جائز منافع خوری کو ختم کیا جائے گا۔
  5. روزمرہ استعمال کی اشیاء کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور مصنوعی مہنگائی کو پیدا کرنے والے عناصر کا سختی سے محاسبہ کیا جائے گا۔

آرٹیکل نمبر3-انتخابی اصلاحات[ترمیم]

  1. انتخابی عمل میں دولت کے بے دریغ استعمال پرپابندی کے علاوہ قوانین میں حالات کے مطابق ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔
  2. اتحاد کی طرف سے انتخابات میں ایماندار اور دیانتدارامیدواروں کو ٹکٹ دئیےجائیں گے۔متوسط اور غریب طبقےکے امیدواروں کو مناسب ترجیح دی جائےگی۔
  3. قومی اسمبلی کی موجودہ نشتوں کی تعدادکو بڑھاکر600مقررکیاجائےگا جن میں سے 400 نشتوں پر براہ راست انتخاب ہو گا جبکہ 200 نشستوں پر انتخابات متناسب نمائندگی کے اصول کی بنیاد پر ہونگے ۔
  4. متناسب نمائندگی کی بنیاد پر 200 نشستوں میں سے 44 فیصد خواتین کے لئے مخصوص ہونگی۔
  5. نشستوں میں اضافے اور خواتین کی مخصوص نشستوں کے بارے میں مندرجہ بالا اصولوں کو اطلاق صوبائی اسمبلیوں پر بھی ہو گا ۔
  6. الیکشن کمیشن کو آزاد، خودمختار اور غیر جانبدار بنایا جائے گا ۔
  7. موجودہ مردم شماری کے ذریعے لوگوں کو پریشان اور حراساں کیا گیا، ہم اس کو مسترد کرتے ہیں ۔نئی مردم شماری عدلیہ کے تحت کرائی جائے گی اور اس کی گنتی ضلعی سطح پر کمپوٹرائزڈ نظام کے تحت کی جائے ۔

آرٹیکل نمبر 4-خواتین کے حقوق[ترمیم]

  1. اسلام اور آئین پاکستان 1973ء میں دئیے گئے خواتین کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا ۔
  2. اسمبلیوں میں خواتین کی خصوصی نشستیں بحال کی جائیں گی اس سلسلے میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر خواتین کے لیے قومی اسمبلی میں 66 نشستیں مختص ہوں گی۔
  3. خواتین کو مذہب، فرقہ، عقیدہ، پیشہ، رنگ، نسل ذات اور جنس کے امتیاز کے بغیر یکساں معاشی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی حقوق دیے جائیں گے ۔
  4. خواتین کے عائلی، تعلیمی ، سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کو مکمل قانونی تحفظ دیا جائے گا ۔
  5. خواتین کے علیحدہ بنکس اور دیگر عوامی سہولتیں فراہم کی جائیں گے ۔
  6. ازدواجی، عائلی اور سماجی زندگی میں عورت کو ناجائز اور طالمانہ سلوک، اسے وراثت سے محروم رکھنے اور اس کے بے سہارا رہ جانے کی امکانات کو معدوم کیا جائے گا ۔
  7. برسر روزگار خواتین کی سہولت کے لیے ڈے کئیر سنٹر قائم کیے جائیں گے جہاں مستحق خاندانوں کے بچوں کو نہ صرف مفت دیکھ بھال بلکہ مفت خوراک بھی فراہم کی جائے گی۔
  8. خواتین کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے ہوم انڈسٹری کو 5 سال کے لیے ٹیکس فری انڈسٹری قرار دیا جائے گا ۔

آرٹیکل نمبر 5-اقتصادی پالیسی[ترمیم]

  1. محتنی اور ہنر مند افرادی قوت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ اور خود انحصاری کو اقتصادی پالیسی کی بنیاد بنایا جائے گا
  2. ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کے لیے تاجروں، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور ہنر مند افراد کے لیے ایک Incentive Based پلان تیار کیا جائے گا ۔
  3. ملکی معیشت کی بحالی کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی کے اہل افراد کے مشورے سے “قومی اقتصادی پالیسی” تیار کی جائے گی۔
  4. ٹیکسوں کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لا کر اسے تاجروں، صنعت کاروں اور زمیداروں کے لئے قابل قبول بنایا جائے گا۔
  5. ٹیکسوں کے نظام میں انتظامی Loopholesکا خاتمہ کیا جائے گا ۔ ٹیکس کے محکموں سے کرپشن کو سخت اقدامات کے ذریعے ختم کر دیا جائے گا۔
  6. ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن کے مصارف کو شفاف بنایا جائے گا تاکہ ٹیکس دھندگان کا اعتماد بحال ہو سکے۔
  7. ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کو سہل بنایا جائے گا۔
  8. ایسے اقدامات کئےجا ئیں گے جن کے ذریعے تاجروں اور ٹیکس دھندگان کےلئے اپنی اصل آمدن ظاہر کرنا ہر خطرے سے بالکل پاک، ممکن اور آسان ہو سکے۔
  9. برآمدات میں اضافہ اور غیر پیداواری درآمدات میں کمی کی جائےگی۔
  10. Implicitٹیکس ختم کئے جائیں گے۔

آرٹیکل نمبر 6-نج کاری[ترمیم]

  1. اندھی نج کاری پالیسی پر نظر ثانی کی جائے گی۔

آرٹیکل نمبر 7 دفاعی پالیسی[ترمیم]

  1. ملکی سلامتی اور بقا کے تحفظ کے لئے ایٹمی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا ئے گا۔
  2. پاکستان کی وحدت اور سالمیت، دفاع کو کمزور کرنے اور وقار کو مجروح کرنے والے معاہدات کو منسوخ کر دیا جائے گا۔
  3. پاکستا ن کے دفا ع کو ملکی سالمیت اور وحدت کے تقاضوں کو مدنظرر کھتے ہوئے مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے گا
  4. نوجوانوں کے لئے لازمی فوجی تربیت کا نظام قائم کیا جائے گا۔
  5. نئی دفاعی حکمت عملی بنائے جائے گی جس کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملکی دفاع کو مضبوط تر بنایا جائے گا۔

آرٹیکل نمبر8-خارجہ پالیسی[ترمیم]

  1. پاکستان کی خارجہ پالیسی ملکی مفادات اور وقار کی روشنی میں آزاد نہ، متوازن اور برابری کے اصوں پر استوار کی جائے گی۔
  2. اقوام متحدہ کی قرار داروں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کا حل ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ہدف ہو گا۔
  3. دوست ہمسایہ ممالک بالخصوص چین سے گرم جوش تعلقات کی بحالی ہماری خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہو گی۔
  4. دو طرفہ (Bilateral)علاقائی (Regional) اور بین الاقوامی (International)بنیادوں پرمختلف ممالک کے ساتھ دوست اور تعاون کی بنیاد پر سفارتی تعلقات بہتر بنائے جائیں گے۔
  5. عالم اسلام اور OICکی سطح پر موثر خارجہ پالیسی کے ذریعے ایک باوقار اسلامک بلاک بنانے اور سلامتی کونسل میں اسلامی ممالک کے لئے کم از کم ایک مستقل سیٹ کے حصول کےلئے کوشش کی جائے گی۔
  6. اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کے کردار کو فعال بنایا جائے گا۔
  7. بھارتی حکومت کے جار حانہ رویے اور توسیع پسند انہ عزائم کا سفارتی سطح پر بھر پور مقابلہ کیا جائےگا۔
  8. اقتصادی ترقی کے لئے “سارک” کو فعال بنایا جائے گا اور خصوصاً نو آزاد وسطی ایشیائی ریاستوں اور“ آسیان” سے قریبی تعلقات قائم کئے جائیں گے۔

آرٹیکل نمبر 9-زرعی پالیسی[ترمیم]

  1. زرعی ٹیکس کے نظام میں کاشتکار اور کاشتکار تنظیموں کے مشورے سے اصلاحات کی جائیں گی۔
  2. محکمۂ مال کے نظام کو کرپشن سے پاک اور شفاف بنایا جائے گا۔
  3. تمام قابل کاشت سرکاری اراضی مقامی بے زمین کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں میں گزارا یونٹ کے حساب سے تقسیم کر دی جائے گی۔
  4. زرعی قرضہ جات زرعی سیکٹرکی ضرورتوں کے مطابق فراہم کئے جائیں گے۔
  5. کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی قرضے قلیل مدتی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے جو وہ اپنی فصل کی کٹائی پر واپس کر سکیں گے۔
  6. زرعی انشور نس کا نفاد کیا جائے گا۔
  7. آزاد تجارت کا زرعی سیکٹر میں نفاد کیا جائے گا۔
  8. زراعت کےشعبہ میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور میکانا ئزیشن کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔
  9. بنجر سرکاری وغیر سرکاری زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور سیم وتھور کے خاتمے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
  10. کاشتکاروں کو پیداوار کامناسب معاوضہ یقینی بنانے کے لئے اجناس کی قیمتیں بین الاقوامی معیار کے مطابق مقرر کی جائیں گی۔
  11. جدید زرعی طریقوں سے کسانوں کو روشناس کرانے کے لئے محکمہ زراعت کی جانب سے فیلڈ میں عملی مظاہرے (Field Demonstration)کا اہتمام کیا جائے گا۔
  12. ملک میں قائم زرعی یونیورسٹیوں اور زرعی تحقیقی اداروں کی امداد کو کم از کم دو گنا کر دیا جائے گا۔
  13. زرعی ماہرین کے مشورے سے قومی زرعی پالیسی نافذ کی جائے گی جس کا پہلا ہدف فی ایکڑ پیداوار کو دوگنا کرنا ہو گا۔
  14. موجودہ آبی وسائل کو ضائع ہونے سے روکا جائے گا اور بنجر زمینوں کی سیرابی کے لئے کریش پروگرام تشکیل دیا جائے گا۔
  15. کھیت سے منڈی تک رابطہ سڑکوں کا جال بچھادیا جائے گا اور ٹیوب ویلوں کےلیے فلیٹ ریٹ پر بجلی کی فراہمی تر جیح بنیادوں پر ممکن بنائی جائے گی۔
  16. پھلوں اور خشک میوہ جات کی کاشت کو صنعت کا درجہ دیا جائے گا، زراعت پر مبنی صنعتوں کو دیہی علاقوں میں خصوصی مراعات دی جائیں گی اور زرعی برآمدات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
  17. زرعی ادویات اور کھادیں کسانوں کو بروقت اور خالص فراہم کی جائیں گی۔
  18. زرعی مشیزی کی امپورٹ ٹیکس فری ہو گی۔

آرٹیکل نمبر 10-لیبر پالیسی[ترمیم]

  1. محنت کش طبقہ کی فلاح و بہبود اور آجرواجیر کے مابین تعلقات خوشگوار بنانے کےلئے مروجہ قوانین پر عمل در آمد یقینی بنایا جائے گا۔ قوانین میں اصلاحات کی جائیں گی اور اس سلسلے میں جامع لیبر پالیسی مرتب کی جائے گی ۔
  2. کارخانوں کی پیدا وار میں مزدور کے حصے کو یقینی بنایا جائے گا۔
  3. مزدور کی کم از کم تنخوہ کا تعین اور اس میں اضافہ افراط زر اور مہنگائی کی بنیاد پر کیا جائے گا اس سلسلے میں فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
  4. کنڑیکٹ لیبر اور ہر قسم کے استحصالی نظام کو ختم کیا جائے گا۔

آٹیکل نمبر 11 ذرائع ابلاغ کی آزادی[ترمیم]

  1. پریس کو مکمل آزادی حاصل ہو گی۔
  2. الیکٹرانک میڈیا پر مختلف سیاسی، سماجی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کو ان کے Statusکے مطابق نمائندگی دینا حکومتی پالیسی کا حصہ ہو گا۔
  3. الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کو بھی اپنا نقطۂ نگاہ پیش کرنے کے مواقع دئیےجائیں گے۔
  4. میڈیا کو جذبہ جب الوطنی اور مِلّی سوچ اجاگر کرنے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔

آرٹیکل نمبر 12-عدلیہ کے آزادی اور قانون کی بلادستی[ترمیم]

  1. تمام ماورائے آئین متوازی عدالتی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
  2. عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بلادستی کو یقینی بنایا جائے گا۔
  3. ہر شخص کو انصاف اس کی دہلیز پر پہنچانے کے لئے ملک کے نظامِ عدل مین انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔
  4. انصاف کے حصول کو فوری اور سستا بنایا جائے گا۔
  5. نو آبادیاتی دور کے پولیس رولز بدل دئیے جائیں گے۔
  6. محکمہ پولیسی کی تنظیمِ نو کی جائے گی۔
  7. تمام قوانین کا اطلاق ہر شخص پر بلا امتیازو تخصیص کیا جائے گا۔
  8. عام لوگوں کی قانونی مدد کے لئے فرسٹ لیگل ایڈ سنڑ قائم کئے جائیں گے۔
  9. عدالتوں کے تقدس کو بحال کیا جائے گا۔
  10. محکمہ عدل و انصاف میں تمام تقرریاں صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر کی جائیں گی۔
  11. عدلیہ میں‌ہر قسم کا ایڈہاک ازم ختم کر دیا جائے گا۔

آرٹیکل نمبر 13-امنِ عامہ اور دہشت گردی[ترمیم]

  1. عوام الناس میں پائی جانےوالی بے یقینی، خوف و ہراس، دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی مکمل بحالی کے لئے انتہائی جامع اور مؤثر پالیسی مرتب کی جائے گی۔
  2. دہشت گردی میں ملوث افراد اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو قرارواقعی سزادی جائے گی۔

آرٹیکل نمبر 14-احتساب[ترمیم]

  1. احتساب شفاف، غیر جانبدار رانہ، منصفانہ، بے رحم اور مستقل ہو گا۔
  2. احتساب ہر سطح پر کیا جائے گا۔
  3. احتساب کے ادرے کو مضبوط، فعال، غیر جانبدار اور مستقل رکھا جائے گا۔
  4. احتسابی عمل غیر جانبداررانہ، منصفانہ اور شفاف ہو گا۔ کسی کی تحقیریا کردار کشی نہیں کی جائے گی لیکن جرم ثابت ہو نےکی صورت میں نشانِ عبرت بنادیا جائے گا۔
  5. قوم کی لوٹی ہوئی دولت لٹیروں سے واپس لے کر خزانے میں جمع کروائی جائے گی۔

دستخط[ترمیم]

آج مورخہ 18 مارچ 1998ءکو لاہور میں تمام پارٹیز کے سربراہان نے اعلامیہ سے اتفاق کرتے ہوئے صفحہ آخر پر دستخط ثبت کئے۔