سید احمد سعید کاظمی، علامہ

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
Ahmadsaeed.jpg

غزالی زماں، رازی دوراں، حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی بیک وقت شیخ التفسیر، شیخ الحدیث، شیخ الفقہ، عظیم ترین محقق، مدقق اور روحانی پیشوا تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب سیدنا امام موسٰی کاظم علیہ السلام سے منسلک ہے۔

فہرست

ولادت

آپ 1913ء کو شہر امروھہ میں حضرت سید محمد مختار کاظمی  کے ہاں پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت

تعلیم و تربیت کی تکمیل برادرِ معظم حضرت علامہ سید محمد خلیل کا ظمی محدث امروہی  سے کی اور سولہ سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کی۔ انہی کے دست حق پر سلسلہ چشتیہ صابر یہ میں بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت حاصل کی۔

تدریس

آپ نے تدریس کا آغاز جامعہ نعمانیہ لاہور سے کیا، بعد ازاں 1931ء میں امروھہ مدرسہ محمد یہ میں چار سال تدریس فرمائی۔ 1935ء کے اوائل میں ملتان تشریف لائے۔ مسجد حافظ فتح شیر بیرون لوہاری دروازہ میں درس قرآن و حدیث کاآغاز کیا، جو 18 سال تک جاری رہا۔ 1944ء میں ملتان کے وسط میں زمین خرید کر مدرسہ انوار العلوم قائم کیا۔ اب تک اس مدرسہ سے سیکڑوں طلبہ علوم اسلامیہ کی تکمیل کرکے ملک اور بیرون ملک دین متین کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

تحریک پاکستان میں خدمات

حضرت علامہ کا ظمی  نے برصیغر کی تقسیم اور مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ قیام پاکستان کی توثیق کے لئے بنارس سنی کا نفرنس میں بھی بھرپور طریقے سے شرکت کی۔

تنظیمی خدمات

شیخ الاسلام بارے ارشاد گرامی

1980ء میں "مجلس رضا" کے زیر انتظام جامع مسجد نوری (ریلوے اسٹیشن، لاہور) میں عرس حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے زیر صدارت ایک تقریب میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطاب کے بعد حضرت غزالی زماں رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف آپ سے بغلگیر ہوئے، دستِ شفقت پھیرا، ماتھا چوما، خیریت دریافت کی، بلکہ تقریب میں شرکت پر خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے علماء و مشائخ اور شرکاء محفل سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’'’اس نوجوان (محمد طاہرالقادری) کا خطاب آپ نے سنا اور اسی سے ان کی قابلیت کا اندازہ بھی کرلیا ہوگا۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے والد گرامی (ڈاکٹر فرید الدین قادری) جو خود بھی ایک معتبر عالم اور معروف طبیب تھے اور میرے دوست تھے، یہ محمد طاہرالقادری ان کے بیٹے اور تربیت یافتہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو بہت ساری صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے۔ میں نے اس نوجوان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ میں آپ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں فیضانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا نور رکھ دیا ہے، جو مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہے گا اور ایک عالم کو فیضیاب کرے گا۔ کاش تم بھی اس نور کو پھلتا پھولتا دیکھ سکو۔ اللہ کرے اس کے علمی، فکری اور روحانی نور سے پورا عالم اسلام اور دنیائے اہلسنت روشن و منور ہوجائے۔ ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔‘‘

وصال

حضرت علامہ سیداحمد سعید شاہ صاحب کاظمی نے 73 سال کی عمر میں 25 رمضان المبارک 1406ھ کو روزہ افطار کرنے کے بعد داعئ اجل کو لبیک کہا اور مالک حقیقی سے جاملے ۔ ملتان کے وسیع اسپورٹس گراؤنڈ میں نمازجنازہ ہوئی جس میں لاکھوں افرادنے شرکت کی مرکزی عیدگاہ ملتان میں مدفون ہوئے۔ آپ کا مزارپرنور زائرین کی آماجگاہ ہے۔

تصانیف

آپ کی تصانیف میں سے مقالات کاظمی کے نام سے تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ البیان ترجمہ قرآن مجید، تسکین الخواطر فی مسئلہ الحاضر والناظر، تسبیح الرحمن عن الکذب و النقصان، درودِتاج پر اعتراضات کے جوابات، التبیان تفسیر القرآن مشہور و عام کتابیں ہیں اور یہ شائع ہوچکی ہیں۔

ذاتی اوزار
Variants
ایکشنز
بنیادی روابط
خصوصی روابط
بیرونی روابط