اسلام اور جدید سائنس

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
Islam-aur-science.jpg

یہ دور جدید کی منفرد کتاب ہے جس میں قرآنی آیات میں جابجا بکھرے ہوئے سائنسی حقائق کو بیان کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام ہر دور کا دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اس کتاب میں ان امور پر تفصیلی بحث کی گئی ہے

  • سائنسی شعور کے فروغ میں اسلام کا کیا کردار ہے؟
  • کس طرح قرآنی تعلیمات میں سائنسی علوم کی ترغیب دی گئی ہے؟
  • کیا اسلام اور سائنس میں عدم مطابقت ہے؟
  • تخلیق کائنات کا قرآنی نظریہ کیا ہے؟

اسلام اور جدید سائنس کے موضوع پر کئی کتب ہیں مگر پڑھنے کے بعد کسی نہ کسی حوالے سے تشنگی باقی رہتی ہے مگر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہر القادری نے اس موضوع پر ایک جامع اور اچھوتی کتاب لکھی جو 21 ابواب اور 143 ذیلی فصول پر مشتمل مذکورہ عنوان پر ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے، شیخ الاسلام کا اعجاز ہے کہ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں یا لب کشائی کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا اسی موضوع پر انہوں نے تخصص کیا ہوا ہے، کتاب کے پہلے حصے میں سائنسی شعور کے فروغ میں اسلام کے کردار پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے جسے پڑھنے سے قاری کی دلچسپی میں بتدریج اضافہ ہوتا جاتا ہے، قرآنی تعلیمات اور سائنسی علوم کی ترغیب کے باب میں ان تمام قرآنی آیات کو جمع کر دیاگیا جو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ دوسرے باب میں اسلام اور سائنس میں عدم تضاد کو ثابت کرنے کے لئے انتہائی مدلل اور دلچسپ بحث کی گئی۔ پہلے حصے کے تیسرے باب میں قرون وسطی میں سائنسی علوم کے فروغ پر بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ جدید علوم کی ابتدا یا تو مسلمان سائنس دانوں نے کی یا پھر انہوں نے ان علوم کو بام عروج تک پہنچا دیا۔ اس دور کے مسلمان سائنسدانوں کے ہاتھوں ہونے والا سائنسی ارتقاء، لکھی جانے والی کتب اور ایجادات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور اسی سلسلہ میں مستشرقین کے اعتراضات کے حوالہ جات بحث کو دلچسپ اور مدلل بنا دیتے ہیں۔ باب چہارم میں اسلامی سپین میں تہذیب وسائنس کا ارتقاء انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیاگیا ہے۔ تاریخی حوالہ جات سے بتایا گیا ہے کہ مسلمان سائنس دانوں نے علم الطب، علم الہیئت، علم النباتات، کاغذ سازی، ٹیکسٹائل، گھڑیاں، حرکی توانائی، کیمیکل ٹیکنالوجی، اسلحہ سازی، سول انجینئر نگ جیسے شعبوں میں کس درجہ ترقی کی۔ مسجد قرطبہ، قصر الزہراء، اور الحمراء کی فن تعمیر پر مدلل بحث کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں جدید مغربی مصنفین کے اعتراضات کو بھی شامل کیاگیا ہے۔

حصہ دو م میں قرآنی و سائنسی علوم کے دائرہ کار کو موضوع بحث بنایاگیا ہے۔ ایسے سائنسی حقائق جو آج کے دور میں سال ہا سال کی تحقیق و جستجو کے بعد منظر عام پر آئے ہیں ان کو قرآن نے کس قدر واضح طریقے سے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا۔ یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد قرآن کی جامعیت اور حقانیت مزید آشکار ہوتی ہے۔

سائنسی طریق کار اور سائنسی علوم کی اقسام بیان کرکے نظام شمسی اور اجرام فلکی پر قدیم و جدید نظریات بیان کرنے کے بعد ان کے متعلقہ قرآنی استدلال و تعلیمات کی قطعیت کو ثابت کر دیاگیا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات و انکشافات سے موازنہ کرتے ہوئے تخلیق کائنات کا قرآنی نظریہ، سات آسمانوں کی حقیقت، زمان و مکان کا قرآنی نظریہ، ارتقائے کائنات کے چھ مراحل، پھیلتی ہوئی کائنات کا نظریہ سیاہ شگاف (Black hole) کا نظریہ، کائنات کے تجاذبی انہدام اور انعقاد قیامت، کرہ ارض پر ارتقائے حیات انسانی، زندگی کا کیمیائی ارتقاء، انسانی زندگی کا حیاتیاتی ارتقاء، انسانی زندگی کا شعوری ارتقاء اور جنسیاتی سائنس پر مدلل اور جامع بحث کی گئی ہے کہ قاری کے ذہن پر قرآن کی عظمت و حقانیت کی مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے اور قاری کے ایمان میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہے اور وہ بے ساختہ اپنے رب کی کبریائی بیان کئے بغیر رہ نہیں سکتا کیونکہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ تمام سائنسی حقائق و نظریات جو کہ آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں منظر عام پر آئے ہیں، وہ آج سے چودہ سو سال پہلے کیسے بیان کئے جا سکتے ہیں۔ اس کا واحد ذریعہ وحی الہی ہی ہو سکتا ہے۔

حصہ چہارم کے آخری باب میں اسلام اور جدید طب کو موضوع بحث بنایا گیا ہے جس میں صحت و صفائی اور حفظ ماتقدم کے اسلامی اصولوں کو بڑی وضاحت و صراحت سے بیان کیاگیا ہے۔ نماز کے طبی فوائد سے روشناس کرایاگیا ہے۔ طب نبوی سے ثابت شدہ مجوزہ اور ممنوعہ غذاؤں کی اہمیت جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ثابت کی گئی ہے۔

الغرض مذکورہ بالا سطور اس کتاب کے تعارف کے لئے آٹے میں نمک کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس کتاب کی ابواب و فصول پر مشتمل صرف فہرست پڑھ کر ہی قاری دنگ رہ جاتا ہے۔ پوری کتاب کے مطالعہ کے بعد قاری اپنی فکری اور شعوری سطح کو پہلے سے کہیں زیادہ بلند محسوس کرتا ہے۔ اس کے ایمان اور عقیدہ کی پختگی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے اور اس کے ذہن پر اللہ رب العزت کی بزرگی و کبریائی آشکار ہوتی ہے اور مطالعہ کے دوران جا بجا اس کی زبان سے بے اختیار سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر جیسے الفاظ کا ورد ہوتا رہتا ہے۔

بیرونی روابط


مزید دیکھیئے

فہرست تصانیف شیخ الاسلام