"ہدایۃ الامۃ علی منھاج القرآن والسنۃ" کے نسخوں کے درمیان فرق

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
 
م
سطر 1: سطر 1:
[[تحریک منہاج القرآن]] کے سات اہداف میں سے پہلے دو اہداف "[[تعلق باﷲ]]" اور "[[ربط رسالت]]" پر مشتمل کتاب ہدایۃ الأمۃ علٰی منھاج القرآن والسنۃ کی پہلی جلد چھپ چکی ہے۔ اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی ہر فصل میں احادیث کے ساتھ ساتھ نفس مضمون سے متعلقہ آیات قرآنی اور صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور صوفیاء و محدثین کے آثار و اقوال بھی مع اردو ترجمہ و تحقیق درج کیے گئے ہیں۔ اس کی پہلی جلد ساڑھے گیارہ سو صفحات پر مشتمل ہے اور دوسری جلد ان شاء اﷲ عنقریب منظر عام پر آ جائے گی۔
+
[[تحریک منہاج القرآن]] کے سات اہداف میں سے پہلے دو اہداف "[[تعلق باللہ]]" اور "[[ربط رسالت]]" پر مشتمل کتاب ہدایۃ الأمۃ علٰی منھاج القرآن والسنۃ کی پہلی جلد چھپ چکی ہے۔ اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی ہر فصل میں احادیث کے ساتھ ساتھ نفس مضمون سے متعلقہ آیات قرآنی اور صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور صوفیاء و محدثین کے آثار و اقوال بھی مع اردو ترجمہ و تحقیق درج کیے گئے ہیں۔ اس کی پہلی جلد ساڑھے گیارہ سو صفحات پر مشتمل ہے اور دوسری جلد ان شاء اﷲ عنقریب منظر عام پر آ جائے گی۔
  
 
اس کتاب میں تعلق باﷲ اور ربط رسالت کے مختلف گوشوں کا شرح و بسط کے ساتھ جلیل القدر صحابہ کرام کے اقوال و آثار کی روشنی میں اس طرح احاطہ کیا گیا ہے کہ کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں تشنگی پائی جائے۔
 
اس کتاب میں تعلق باﷲ اور ربط رسالت کے مختلف گوشوں کا شرح و بسط کے ساتھ جلیل القدر صحابہ کرام کے اقوال و آثار کی روشنی میں اس طرح احاطہ کیا گیا ہے کہ کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں تشنگی پائی جائے۔
  
 
[[زمرہ:تصانیف]]
 
[[زمرہ:تصانیف]]

تجدید بمطابق 11:14، 28 اپريل 2009ء

تحریک منہاج القرآن کے سات اہداف میں سے پہلے دو اہداف "تعلق باللہ" اور "ربط رسالت" پر مشتمل کتاب ہدایۃ الأمۃ علٰی منھاج القرآن والسنۃ کی پہلی جلد چھپ چکی ہے۔ اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی ہر فصل میں احادیث کے ساتھ ساتھ نفس مضمون سے متعلقہ آیات قرآنی اور صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور صوفیاء و محدثین کے آثار و اقوال بھی مع اردو ترجمہ و تحقیق درج کیے گئے ہیں۔ اس کی پہلی جلد ساڑھے گیارہ سو صفحات پر مشتمل ہے اور دوسری جلد ان شاء اﷲ عنقریب منظر عام پر آ جائے گی۔

اس کتاب میں تعلق باﷲ اور ربط رسالت کے مختلف گوشوں کا شرح و بسط کے ساتھ جلیل القدر صحابہ کرام کے اقوال و آثار کی روشنی میں اس طرح احاطہ کیا گیا ہے کہ کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں تشنگی پائی جائے۔