"منہاج ایجوکیشن سوسائٹی" کے نسخوں کے درمیان فرق

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
م
سطر 3: سطر 3:
 
* مینجنگ ڈائریکٹر : [[شاہد لطیف قادری]]
 
* مینجنگ ڈائریکٹر : [[شاہد لطیف قادری]]
  
{{نامکمل}}
+
== مقاصد قیام ==
 +
* بین الاقوامی سطح پر ایک یونیورسٹی، چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں ایک ایک یونیورسٹی، ضلعی سطح پر 100 ماڈل کالجز، ہری سطح پر 1000 ماڈل سکولز اور دیہی سطح پر 5000 پبلک سکولز قائم کرنا۔
 +
* طلبہ/طالبات کی علمی و عملی، فکری و نظریاتی اوراخلاقی و روحانی تربیت کا ایسا مؤثر انتظام کرنا جس سے وہ ملک وملت کی مخلصانہ اور ماہرانہ خدمت کے اہل ہوسکیں۔
 +
* دینی اوردنیاوی تعلیم میں حسین امتزاج پیدا کرنا۔
 +
* طلبہ/ طالبات کو مخصوص تنگ نظری اور باہمی تعصبات و فرقہ پرستی پر مشتمل محدود سوچ سے بالا کر کے انہیں اس قابل بنانا کہ وہ عالمگیر سطح پر اتحاد امت مسلمہ کیلئے اہم کردار ادا کرسکیں۔
 +
* طلبہ/ طالبات کی ایسی اخلاقی و روحانی تربیت کرنا جس کے ذریعے وہ تعمیر شخصیت، تقویٰ اورتزکیہنفس کی منزل پا سکيں۔
 +
* نصاب تعلیم میں دینی وعصری علوم کو اس طرح یکجا کرنا جس سے طلبہ نہ صرف حقیقی مسلمان بنیں بلکہ وہ معاشرے کا ایک عال رکن بھی بن سکیں۔
 +
* طلبہ /طالبات میں محنت کی عظمت اجاگر کرنا اور اس سلسلے میں اسلامی نقطہ نظر کو واضح کرنا تاکہ ہاتھ سے کام کرنا معاشرے میں باعث شرم نہ سمجھا جائے۔
 +
* تعلیمی اداروں میں متعین معلمین و معلمات کے لئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم تربیتی کورسز کا اجراء کر کے ان کے فکری و نظریاتی، روحانی واخلاقی اورپیشہ وارانہ تربیت اور راہنمائی کا اہتمام کرنا۔
 +
* نظام امتحانات کو اس طرح جدید خطوط پر استوار کرنا جس کے نتیجے میں بچوں کے اندر تخلیقی و تحقیقی صلاحیتیوں کو اجاگر کیا جاسکے۔
 +
* اساتذہ و طلبہ/ طالبات کے ذوق مطالعہ کو اجاگر کرنے کے لئے جدید تعلیمی سہولیات سے آراستہ لائبریریاں قائم کرنا۔
 +
* نظریہ پاکستان اور دستور پاکستان کی روشنی میں محکمہ تعلیم، حکومت پاکستان کو اس کی تعلیمی و تربیتی کاوشوں یں معاونت کرنا۔
 +
* طلبہ/ طالبات کی سوچ کو تعصب اورفرقہ واریت سے پاک کرنا تاکہ عالمگیر سطح پر اتحاد امت کے لئے اہم کردار ادا کرسکیں۔
 +
* طلبہ/ طالبات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اجاگر کر کے رضائے الٰہی حاصل کرنا۔
 +
 
 +
== خصوصیات ==
 +
* منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کے لئے تمام تر وسائل منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فراہم کرتی ہے۔
 +
* ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ/ طالبات کوکم از کم 25 فیصد غریب اورہونہار طلبہ/ طالبات کے اخراجات منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فراہم کرتی ہے
 +
* مستحق اورنادار طلبہ کو سکول کی کتابیں اور یونیفارم بھی مفت فراہم کی جاتی ہے۔
 +
* ملک بھر میں جاری مروجہ نصاب کی جگہ بامقصد اپنا نصاب پڑھایا جاتا ہے جس کی اسلامی تشکیل کی گئی ہے۔
 +
* سہ ماہی بنیادوں پر سکولز میں اساتذہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے سمیسٹر وائز امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لیے جاتے ہیں۔ مرکزی سطح پر نظام امتحانات MES کا طرہ امتیاز ہے۔
 +
* تعلیمی معیار برقرار رکھنے کے لئے تمام کلاسز کے سالانہ امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لیے جاتے ہیں اور اس بورڈ کے تحت نتائج کا اعلان کیا جاتاہے۔
 +
* پاکستان لیول پر پوزیشن ہولڈر طلبہ/ طالبات کے اعزاز میں شاندار تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں طلبہ/ طالبات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
 +
* تربیت یافتہ اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل اساتذہ کے ذریعے طلبہ/ طالبات کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
 +
* پورے پاکستان میں منہاج سکولز کے طلبہ/ طالبات میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے ایک ہی مجوزہ یونیفارم ہے جو منہاج سکولز کا طرہ امتیاز ہے۔
 +
* ان اداروں میں طلبہ کی روحانی اوراخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
 +
 
 +
== امتیازات ==
 +
منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز دیگر سکول سسٹم اور تعلیمی اداروں سے کئی اعتبار سے بہتر ہیں جن کا اندازہ درج ذیل امتیازات سے لگایاجاسکتا ہے۔
 +
 
 +
* منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے سکولز کے تعلیمی و انتظامی امور کو احسن انداز میں چلانے کے لئے پرنسپل کے پاس مکمل اختیارات ہوتے ہیں اور پھر ہرسکول میں کام کی ایک تقسیم کار ہے جس وجہ سے سکول کے تعلیمی، انتظامی، نصابی، ہم نصابی، اور مالی امور کو احسن انداز میں انجام دیاجاتا ہے۔
 +
* منہاج سکولز کو چلانے کے لئے تعلیمی اور انتظامی اعتبار سے ایک تعلیمی پالیسی منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) بنائی گئی ہے ہر سکول پالیسی کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرتا ہے جس سے سکول میں مثبت نتائج پیداہوتے ہیں جبکہ دیگر سکولز میں اس طرح کا انتظامی نظم نہیں پایا جاتا ہے۔
 +
* منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز کے انتظامی نظم کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مسائل کو حل کرنے کے لئے ہر سکول میں ایک منہاج ایجوکیشن کونسل قائم کی جاتی ہے جو چار افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ منہاج ایجوکیشن کونسل (MEC) انتظامی مسائل کو حل کرنے میں پرنسپل کی مدد کرتی ہے تاکہ سکول کسی قسم کی انتظامی دشواری کی وجہ سے مسائل کا شکار نہ ہوں اس طرح تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لئے منہاج ایجوکیشن کونسل (MEC) معاون ثابت ہوتی ہے۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) اپنے تمام تر فیصلے تعلیمی پالیسی کی روشنی میں کرتی ہے اور سکول کو حسب ضرورت مالی معاونت بھی فراہم کرتی ہے۔
 +
* منہاج سکول سسٹم کا دیگر تعلیمی اداروں سے امتیازی پہلو مانیٹرنگ سسٹم کا ہونا بھی ہے جس سے ہر سکول کا (CHECK & BALANCE) بھی رکھاجاتا ہے اس کام کے لئے پورے پاکستان کوانتظامی نقطہ نظر سے مختلف 14زونوں میں تقسیم کیاگیاہے ہر زون میں ایک ماہر تعلیم اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن مقرر کیاگیا ہے جو ہر تین ماہ میں کم از کم ہر سکول کے دو وزٹ کرتا ہے اور رپورٹ مرکز ارسال کرتا ہے ہر زون میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن اپنے ماتحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں ڈسپلن اور معیارِ تعلیم کو برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور مالیاتی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بناتاہے۔
 +
* منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز اس حوالے سے بھی دیگر سکولز سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں کہ منہاج سکولز کا پورے پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم ہے اور طلبہ کی فکری، اخلاقی، روحانی، نظریاتی اور قومی ثقافت کو مد نظر رکھ کر تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔
 +
* منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز کا طرہ امتیاز یہ بھی ہے کہ دیگر سکول سسٹم میں امتحانات کا مرکزی سطح پر اب تک کوئی نظام نہیں ہے جبکہ منہاج سکولز کے امتحانات سمیسٹر ستمبر، دسمبر اور سالانہ امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لئے جاتے ہیں جس سے معیارِ تعلیم قائم رہتا ہے اور سکولز میں مقابلے کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے اس طرح زونل سطح پر اور پاکستان لیول پر (TOP) کرنے والے طلبہ/ طالبات کی مرکزی سطح پر بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
 +
* منہاج ایجوکیشن سوسائٹی منہاج بورڈ کے تحت ہر سال منہاج سکولز کے طلبہ/ طالبات میں مقابلہ کی فضا پیدا کرنے کے لئے وظیفہ کے امتحانات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔
 +
* منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز کا یہ بھی طرہء امتیاز ہے کہ منہاج سکولز میں اساتذہ کی ان کے شایان شان عزت افزائی کی جاتی ہے علاوہ ازیں اساتذہ کی پیشہ وارانہ مہارتوں میں اضافہ کرنے کے لئے ہر سال مختلف اوقات میں اور دوران تعطیلات تربیت اساتذہ کے لئے ریفریشر کورس کا انعقاد کیا جاتا ہے تا کہ معیارِ تعلیم کو بڑھایا جا سکے اس طرح بچوں کی ذہنی، فکری اورروحانی تربیت اچھے اور تربیت یافتہ اساتذہ کرتے ہیں جس سے ملک پاکستان کی خدمت کے لئے ایسے طلبہ پیدا کئے جا رہے ہیں جو مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اچھے شہری اور حب الوطنی کے جذبہ سے سر شار ہیں۔
 +
 
 +
== تعلیمی پالیسی ==
 +
* سکول کھولنے کے لئے مقامی تنظیم بنیادی وسائل کی ذمہ دار ہے۔
 +
* اساتذہ اور طلبہ کی تعداد اور فیسوں کا انتظام ایسا ہوگا کہ سکول مالی لحاظ سے خود کفیل ہو۔
 +
* خسارے کو پورا کرنے کے لئے تنظیمات ویلفیئر سے حاصل کردہ تعلیمی منصوبے کی مد کا 45 فیصد مرکز کی پالیسی کے مطابق خرچ کرے گی۔
 +
* اساتذہ کا ایک خاص کیڈر بھی تیار کرنا ہوگا جو انہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں جہاں سکول کھولے جائیں۔
 +
* سکولوں کے پیشہ ورانہ معاملات میں غیر پیشہ ور حضرات مداخلت نہیں کریں گے۔
 +
* نرسری سے پانچویں تک مخلوط تعلیم اور خواتین اساتذہ رکھی جائیں گی اور چھٹی سے دسویں جماعت تک مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں ہوگی۔
 +
* سکولوں کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کا باقاعدہ نظام وضع کیا جائے تاکہ مالی وسائل ضائع نہ ہوں۔
 +
* مرکز سے مقرر شدہ نصاب پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور مقررہ نصاب کے علاوہ طلبہ کو کوئی اور کتاب خریدنے اور پڑھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
 +
* MES کے ساتھ ہر منہاج سکول کو رجسٹریشن کروانا لازم ہوگی۔
 +
* سکولوں کو محکمہ تعلیم سے رجسٹرڈ کروایا جائے گا اور میٹرک کے امتحان دلوانے کے لئے متعلقہ بورڈ سے منظوری حاصل کی جائے گی۔
 +
* کوئی نیا سکول MES کی منظور ی کے بغیر نہیں کھولا جائے گا۔
 +
* MES کے مجوزہ فارم پر فزیبلٹی رپورٹ تیار کر کے متعلقہ ADE کی سفارشات کے ساتھ مرکز کو بمعہ رجسٹریشن منظوری فیس ارسال کی جائے گی اور منظوری کے لئے درج ذیل معاملات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
 +
 
 +
** نئے سکول تحریک کی ملکیتی عمارت میں قائم کئے جائیں۔
 +
** کرائے کی صورت میں عمارت ترجیحاً تحریکی ساتھیوں سے لمبے عرصے کے لئے حاصل کی جائے۔
 +
** زمین خریدنے کی صورت میں حسب ضرورت کمرے تعمیر کئے جائیں اور ان میں بتدریج اضافہ کیا جائے۔
 +
** عمارت کا ماسٹر پلان مرکز سے منظور کروانا لازمی ہوگا۔
 +
** سکول کے طلبہ کی رجسٹریشن برائے امتحانات MEB کے ساتھ کرانا ضروری ہوگا اور مقرر شدہ فیس مقررہ وقت پر جمع کروانا لازمی ہوگا۔
 +
** سکول کے تدریسی اور انتظامی امور کی جانچ پڑتال MES کی پالیسی کے مطابق ADE کریں گے۔
 +
** فیسوں کے معیار کو درست رکھنا ہوگا تاکہ مطلوبہ مالی وسائل میسر ہوں اور سکول خسارے کا باعث نہ بنیں۔
 +
 
 +
 
  
 
[[زمرہ:عوامی تعلیمی منصوبہ]]
 
[[زمرہ:عوامی تعلیمی منصوبہ]]

تجدید بمطابق 17:40، 3 مئی 2009ء

تحریک منہاج القرآن کے تحت جاری عوامی تعلیمی منصوبہ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت جاری ہے۔

مقاصد قیام

  • بین الاقوامی سطح پر ایک یونیورسٹی، چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں ایک ایک یونیورسٹی، ضلعی سطح پر 100 ماڈل کالجز، ہری سطح پر 1000 ماڈل سکولز اور دیہی سطح پر 5000 پبلک سکولز قائم کرنا۔
  • طلبہ/طالبات کی علمی و عملی، فکری و نظریاتی اوراخلاقی و روحانی تربیت کا ایسا مؤثر انتظام کرنا جس سے وہ ملک وملت کی مخلصانہ اور ماہرانہ خدمت کے اہل ہوسکیں۔
  • دینی اوردنیاوی تعلیم میں حسین امتزاج پیدا کرنا۔
  • طلبہ/ طالبات کو مخصوص تنگ نظری اور باہمی تعصبات و فرقہ پرستی پر مشتمل محدود سوچ سے بالا کر کے انہیں اس قابل بنانا کہ وہ عالمگیر سطح پر اتحاد امت مسلمہ کیلئے اہم کردار ادا کرسکیں۔
  • طلبہ/ طالبات کی ایسی اخلاقی و روحانی تربیت کرنا جس کے ذریعے وہ تعمیر شخصیت، تقویٰ اورتزکیہنفس کی منزل پا سکيں۔
  • نصاب تعلیم میں دینی وعصری علوم کو اس طرح یکجا کرنا جس سے طلبہ نہ صرف حقیقی مسلمان بنیں بلکہ وہ معاشرے کا ایک عال رکن بھی بن سکیں۔
  • طلبہ /طالبات میں محنت کی عظمت اجاگر کرنا اور اس سلسلے میں اسلامی نقطہ نظر کو واضح کرنا تاکہ ہاتھ سے کام کرنا معاشرے میں باعث شرم نہ سمجھا جائے۔
  • تعلیمی اداروں میں متعین معلمین و معلمات کے لئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم تربیتی کورسز کا اجراء کر کے ان کے فکری و نظریاتی، روحانی واخلاقی اورپیشہ وارانہ تربیت اور راہنمائی کا اہتمام کرنا۔
  • نظام امتحانات کو اس طرح جدید خطوط پر استوار کرنا جس کے نتیجے میں بچوں کے اندر تخلیقی و تحقیقی صلاحیتیوں کو اجاگر کیا جاسکے۔
  • اساتذہ و طلبہ/ طالبات کے ذوق مطالعہ کو اجاگر کرنے کے لئے جدید تعلیمی سہولیات سے آراستہ لائبریریاں قائم کرنا۔
  • نظریہ پاکستان اور دستور پاکستان کی روشنی میں محکمہ تعلیم، حکومت پاکستان کو اس کی تعلیمی و تربیتی کاوشوں یں معاونت کرنا۔
  • طلبہ/ طالبات کی سوچ کو تعصب اورفرقہ واریت سے پاک کرنا تاکہ عالمگیر سطح پر اتحاد امت کے لئے اہم کردار ادا کرسکیں۔
  • طلبہ/ طالبات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اجاگر کر کے رضائے الٰہی حاصل کرنا۔

خصوصیات

  • منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کے لئے تمام تر وسائل منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فراہم کرتی ہے۔
  • ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ/ طالبات کوکم از کم 25 فیصد غریب اورہونہار طلبہ/ طالبات کے اخراجات منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فراہم کرتی ہے
  • مستحق اورنادار طلبہ کو سکول کی کتابیں اور یونیفارم بھی مفت فراہم کی جاتی ہے۔
  • ملک بھر میں جاری مروجہ نصاب کی جگہ بامقصد اپنا نصاب پڑھایا جاتا ہے جس کی اسلامی تشکیل کی گئی ہے۔
  • سہ ماہی بنیادوں پر سکولز میں اساتذہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے سمیسٹر وائز امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لیے جاتے ہیں۔ مرکزی سطح پر نظام امتحانات MES کا طرہ امتیاز ہے۔
  • تعلیمی معیار برقرار رکھنے کے لئے تمام کلاسز کے سالانہ امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لیے جاتے ہیں اور اس بورڈ کے تحت نتائج کا اعلان کیا جاتاہے۔
  • پاکستان لیول پر پوزیشن ہولڈر طلبہ/ طالبات کے اعزاز میں شاندار تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں طلبہ/ طالبات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
  • تربیت یافتہ اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل اساتذہ کے ذریعے طلبہ/ طالبات کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
  • پورے پاکستان میں منہاج سکولز کے طلبہ/ طالبات میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے ایک ہی مجوزہ یونیفارم ہے جو منہاج سکولز کا طرہ امتیاز ہے۔
  • ان اداروں میں طلبہ کی روحانی اوراخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

امتیازات

منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز دیگر سکول سسٹم اور تعلیمی اداروں سے کئی اعتبار سے بہتر ہیں جن کا اندازہ درج ذیل امتیازات سے لگایاجاسکتا ہے۔

  • منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے سکولز کے تعلیمی و انتظامی امور کو احسن انداز میں چلانے کے لئے پرنسپل کے پاس مکمل اختیارات ہوتے ہیں اور پھر ہرسکول میں کام کی ایک تقسیم کار ہے جس وجہ سے سکول کے تعلیمی، انتظامی، نصابی، ہم نصابی، اور مالی امور کو احسن انداز میں انجام دیاجاتا ہے۔
  • منہاج سکولز کو چلانے کے لئے تعلیمی اور انتظامی اعتبار سے ایک تعلیمی پالیسی منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) بنائی گئی ہے ہر سکول پالیسی کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرتا ہے جس سے سکول میں مثبت نتائج پیداہوتے ہیں جبکہ دیگر سکولز میں اس طرح کا انتظامی نظم نہیں پایا جاتا ہے۔
  • منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز کے انتظامی نظم کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مسائل کو حل کرنے کے لئے ہر سکول میں ایک منہاج ایجوکیشن کونسل قائم کی جاتی ہے جو چار افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ منہاج ایجوکیشن کونسل (MEC) انتظامی مسائل کو حل کرنے میں پرنسپل کی مدد کرتی ہے تاکہ سکول کسی قسم کی انتظامی دشواری کی وجہ سے مسائل کا شکار نہ ہوں اس طرح تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لئے منہاج ایجوکیشن کونسل (MEC) معاون ثابت ہوتی ہے۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) اپنے تمام تر فیصلے تعلیمی پالیسی کی روشنی میں کرتی ہے اور سکول کو حسب ضرورت مالی معاونت بھی فراہم کرتی ہے۔
  • منہاج سکول سسٹم کا دیگر تعلیمی اداروں سے امتیازی پہلو مانیٹرنگ سسٹم کا ہونا بھی ہے جس سے ہر سکول کا (CHECK & BALANCE) بھی رکھاجاتا ہے اس کام کے لئے پورے پاکستان کوانتظامی نقطہ نظر سے مختلف 14زونوں میں تقسیم کیاگیاہے ہر زون میں ایک ماہر تعلیم اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن مقرر کیاگیا ہے جو ہر تین ماہ میں کم از کم ہر سکول کے دو وزٹ کرتا ہے اور رپورٹ مرکز ارسال کرتا ہے ہر زون میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن اپنے ماتحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں ڈسپلن اور معیارِ تعلیم کو برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور مالیاتی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بناتاہے۔
  • منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز اس حوالے سے بھی دیگر سکولز سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں کہ منہاج سکولز کا پورے پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم ہے اور طلبہ کی فکری، اخلاقی، روحانی، نظریاتی اور قومی ثقافت کو مد نظر رکھ کر تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔
  • منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز کا طرہ امتیاز یہ بھی ہے کہ دیگر سکول سسٹم میں امتحانات کا مرکزی سطح پر اب تک کوئی نظام نہیں ہے جبکہ منہاج سکولز کے امتحانات سمیسٹر ستمبر، دسمبر اور سالانہ امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لئے جاتے ہیں جس سے معیارِ تعلیم قائم رہتا ہے اور سکولز میں مقابلے کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے اس طرح زونل سطح پر اور پاکستان لیول پر (TOP) کرنے والے طلبہ/ طالبات کی مرکزی سطح پر بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
  • منہاج ایجوکیشن سوسائٹی منہاج بورڈ کے تحت ہر سال منہاج سکولز کے طلبہ/ طالبات میں مقابلہ کی فضا پیدا کرنے کے لئے وظیفہ کے امتحانات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔
  • منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کے تحت چلنے والے سکولز کا یہ بھی طرہء امتیاز ہے کہ منہاج سکولز میں اساتذہ کی ان کے شایان شان عزت افزائی کی جاتی ہے علاوہ ازیں اساتذہ کی پیشہ وارانہ مہارتوں میں اضافہ کرنے کے لئے ہر سال مختلف اوقات میں اور دوران تعطیلات تربیت اساتذہ کے لئے ریفریشر کورس کا انعقاد کیا جاتا ہے تا کہ معیارِ تعلیم کو بڑھایا جا سکے اس طرح بچوں کی ذہنی، فکری اورروحانی تربیت اچھے اور تربیت یافتہ اساتذہ کرتے ہیں جس سے ملک پاکستان کی خدمت کے لئے ایسے طلبہ پیدا کئے جا رہے ہیں جو مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اچھے شہری اور حب الوطنی کے جذبہ سے سر شار ہیں۔

تعلیمی پالیسی

  • سکول کھولنے کے لئے مقامی تنظیم بنیادی وسائل کی ذمہ دار ہے۔
  • اساتذہ اور طلبہ کی تعداد اور فیسوں کا انتظام ایسا ہوگا کہ سکول مالی لحاظ سے خود کفیل ہو۔
  • خسارے کو پورا کرنے کے لئے تنظیمات ویلفیئر سے حاصل کردہ تعلیمی منصوبے کی مد کا 45 فیصد مرکز کی پالیسی کے مطابق خرچ کرے گی۔
  • اساتذہ کا ایک خاص کیڈر بھی تیار کرنا ہوگا جو انہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں جہاں سکول کھولے جائیں۔
  • سکولوں کے پیشہ ورانہ معاملات میں غیر پیشہ ور حضرات مداخلت نہیں کریں گے۔
  • نرسری سے پانچویں تک مخلوط تعلیم اور خواتین اساتذہ رکھی جائیں گی اور چھٹی سے دسویں جماعت تک مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں ہوگی۔
  • سکولوں کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کا باقاعدہ نظام وضع کیا جائے تاکہ مالی وسائل ضائع نہ ہوں۔
  • مرکز سے مقرر شدہ نصاب پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور مقررہ نصاب کے علاوہ طلبہ کو کوئی اور کتاب خریدنے اور پڑھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
  • MES کے ساتھ ہر منہاج سکول کو رجسٹریشن کروانا لازم ہوگی۔
  • سکولوں کو محکمہ تعلیم سے رجسٹرڈ کروایا جائے گا اور میٹرک کے امتحان دلوانے کے لئے متعلقہ بورڈ سے منظوری حاصل کی جائے گی۔
  • کوئی نیا سکول MES کی منظور ی کے بغیر نہیں کھولا جائے گا۔
  • MES کے مجوزہ فارم پر فزیبلٹی رپورٹ تیار کر کے متعلقہ ADE کی سفارشات کے ساتھ مرکز کو بمعہ رجسٹریشن منظوری فیس ارسال کی جائے گی اور منظوری کے لئے درج ذیل معاملات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
    • نئے سکول تحریک کی ملکیتی عمارت میں قائم کئے جائیں۔
    • کرائے کی صورت میں عمارت ترجیحاً تحریکی ساتھیوں سے لمبے عرصے کے لئے حاصل کی جائے۔
    • زمین خریدنے کی صورت میں حسب ضرورت کمرے تعمیر کئے جائیں اور ان میں بتدریج اضافہ کیا جائے۔
    • عمارت کا ماسٹر پلان مرکز سے منظور کروانا لازمی ہوگا۔
    • سکول کے طلبہ کی رجسٹریشن برائے امتحانات MEB کے ساتھ کرانا ضروری ہوگا اور مقرر شدہ فیس مقررہ وقت پر جمع کروانا لازمی ہوگا۔
    • سکول کے تدریسی اور انتظامی امور کی جانچ پڑتال MES کی پالیسی کے مطابق ADE کریں گے۔
    • فیسوں کے معیار کو درست رکھنا ہوگا تاکہ مطلوبہ مالی وسائل میسر ہوں اور سکول خسارے کا باعث نہ بنیں۔