ڈاکٹر طاہرالقادری : قدم بہ قدم

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
  • 19 فروری 1951ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔
  • 2 نومبر 1974ء کو ڈاکٹر فریدالدین قادری نے جھنگ میں 56 سال کی عمر میں انتقال کیا۔
  • 1955ء تا 1963ء - سیکرڈ ہارڈ سکول جھنگ صدر سے پرائمری اور سیکنڈری تعلیم حاصل کی۔
  • 1963ء - مولانا ضیاء الدین مدنی کی زیرنگرانی مدینہ منورہ میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔
  • 1963ء - سید علوی المالکی سے حدیث کا سماع کیا ۔
  • 1963ء تا 1969ء - جامعہ قطبیہ جھنگ سے علوم شریعہ کا متداول کورس درس نظامی کیا۔
  • 1966ء - اسلامیہ ہائی سکول جھنگ صدر سے فرسٹ ڈویژن میں ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کا امتحان پاس کیا۔
  • 1968ء - گورنمنٹ ڈگری کالج فیصل آباد سے فرسٹ ڈویژن میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔
  • 1970ء - ڈاکٹر فریدالدین قادری کی زیرنگرانی جھنگ میں دورہ حدیث مکمل کیا۔
  • 1970ء تا 1972ء - پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔
  • 1974ء - پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں قانون کا امتحان ایل ایل بی پاس کیا۔
  • 1974ء تا 1975ء - لیکچرار اسلامک سٹڈیز، گورنمنٹ کالج عیسی خیل، میانوالی
  • 1976ء تا 1978ء - ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ، جھنگ
  • 1978ء - رکن سنڈیکٹ، پنجاب یونیورسٹی
  • 1978ء - مشیر فقہ وفاقی شرعی عدالت، پاکستان
  • 1978ء - مشیر سپریم کورٹ آف پاکستان
  • 1978ء - ماہر قومی کمیٹی برائے نصابات اسلامی
  • 1978ء تا 1983ء - لیکچرار اسلامک لاء، پنجاب یونیورسٹی لاء کالج، لاہور
  • 1979ء - سید احمد سعید کاظمی (ملتان) سے اجازت روایت حدیث کی سند حاصل کی۔
  • 1983ء تا 1988ء - وزٹنگ پروفیسر و سربراہ شعبہ اسلامی قانون (برائے ایل ایل ایم کلاسز)، پنجاب یونیورسٹی لاء کالج، لاہور
  • 1986ء - پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اسلامی فلسفہ عقوبات کے موضوع پر اسلامی قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
  • 1986ء تا حال - پرو چانسلر / چیئرمین بورڈ آف گورنرز، منہاج یونیورسٹی لاہور
  • 25 مئی 1989ء کو آپ نے پاکستان عوامی تحریک کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی، جس کا بنیادی ایجنڈا پاکستان میں انسانی حقوق و عدل و انصاف کی فراہمی، خواتین کے حقوق کا تحفظ، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی، ملکی سیاست سے کرپشن اور دولت کے اثرات کا خاتمہ تھا۔[1]
  • 1989ء تا 1993ء انہوں نے اسمبلی سے باہر اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور ملکی تعلیمی، سیاسی اور معاشی صورتحال پر حکومت وقت کو تجاویز ارسال کیں۔
  • 1990ء میں پاکستان عوامی تحریک نے پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لیا۔
  • 1991ء - محمد بن علوی المالکی (مکہ مکرمہ) سے اجازت روایت حدیث اور اجازت العلمیہ کی سند حاصل کی۔
  • 1991ء میں ملک میں جاری فرقہ واریت اور شیعہ سنی فسادات کے خاتمے کے لئے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مابین اعلامیہ وحدت جاری کیا گیا۔
  • 1992ء میں آپ نے قومی اور بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کا احاطہ کرنے والا بلاسود بینکاری نظام پیش کیا، جسے صنعتی و بینکاری حلقوں میں سراہا گیا۔
  • 1994ء میں 130 سال عمر پانے والے چکوال کے معروف بزرگ سید رسول شاہ خاکی نے شیخ الاسلام کا خطاب دیا۔
  • 1995ء میں آپ نے عوامی تعلیمی منصوبہ کا آغاز کیا، جسے غیرسرکاری سطح پر دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت پاکستان کے طول و عرض میں 572 تعلیمی ادارے قائم ہیں۔[2]
  • 1998ء میں وہ سیاسی اتحاد پاکستان عوامی اتحاد کے صدر بنے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کل 19 جماعتیں شامل تھیں۔
  • 2003ء - محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کے ادارہ کی تاحیات رفاقت اختیار کی۔[3]
  • 2003ء میں آپ نے فرد واحد کی آمریت کے خلاف قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا[4] جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی رکن اسمبلی کی طرف سے پہلا استعفیٰ تھا۔
  • 2004ء میں عرب علماء کی طرف سے شیخ الاسلام کا خطاب دیا گیا۔
  • 2005ء لاہور میں قائم کردہ منہاج یونیورسٹی ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے چارٹر کر دی گئی، جسے 2009ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے کیٹگری X سے W میں ترقی دی گئی۔[5]
  • یکم دسمبر 2005ء کو آپ نے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر گوشہ درود میں لوگ سارا سال دن رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ روئے زمین پر یہ ایسی واحد جگہ ہے جسے تاریخ میں پہلی بار شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے قائم کیا۔[6]
  • 2006ء - امام یوسف بن اسماعیل نبھانی (لبنان) کے تلمیذ شیخ حسین بن احمد عسیران سے روایت حدیث کی اجازات حاصل کیں۔
  • 2006ء میں جب ڈنمارک سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنائے گئے تو آپ نے اقوام متحدہ کو ایک احتجاجی مراسلہ بھیجا، جس کے ساتھ 15 کلومیٹر طویل کپڑے کا بینر بھی تھا[7] جس پر 10 لاکھ سے زائد لوگوں کے دستخط ثبت تھے۔[8]
  • 2006ء توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے آپ نے امریکہ، برطانیہ، ڈنمارک، ناروے اور دیگر یورپی ممالک کی حکومتوں کو ’’دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے‘‘[9] کے نام سے ایک مراسلہ بھی جاری کیا۔
  • 2009ء میں اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی غزہ کی تباہی کے بعد فلسطینی مسلمان بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے غزہ کانفرنس[10] کا انعقاد ہوا، بعد ازاں متاثرین غزہ کے لئے امداد سامان روانہ کیا گیا۔[11]
  • 2010ء میں دہشت گردی کے خلاف فتوی جاری کر کے اسلام دشمن طاقتوں اور خارجیوں کی طرف سے گزشتہ کئی سالوں سے اسلام کو دہشت گرد مذہب ثابت کرنے کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]