منہاج القرآن علماء کونسل

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
تحریک کے مرکزی فورمز

منہاج القرآن علماء کونسل

منہاج القرآن ویمن لیگ

منہاج یوتھ لیگ

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ

مسلم کرسچین ڈائیلاگ فورم

پاکستان عوامی لائرز موومنٹ

کونسل آف مسلم انجینئرز اینڈ ٹیکنالوجسٹس

منہاجینز

اس وقت دنیا بھر میں کئی جماعتیں، ادارے اور تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ کار کے مطابق خدمت دین میں مصروف عمل ہیں لیکن بیشتر تنظیمیں مسلکی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔ بعض کی بنیاد علاقائی وجغرافیائی ہے‘ کچھ سیاسی وسماجی اور کچھ گروہی مفادات کے تحفظ کے لئے کام کر تی دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے کے عقائد پر طعن و تشنیع اور تنقید و تنقیص کے لئے کام کرنا بدقسمتی سے جماعتوں کی پہچان بن گئی ہے۔

ان حالات کے پیش نظر ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے عالمگیر مقصد کو پورا کرنے کے لئے شیخ الاسلام پروفیسرڈاکٹر محمدطاہر القادری نے ربع صدی قبل تحریک منہاج القرآن کی بنیادرکھی۔ اس تحریک میں مختلف نظامتیں، شعبہ جات، فورمز اور ونگز اپنے اپنے دائرہ کار کے مطابق تحریر، تقریر، تنظیم، تحقیق، اشاعت، درس و تدریس اور تعلیم و تربیت کے امور میں مصروف ہیں۔ اور اس میں ہراول دستے کے طور پر کام کرنے کے لئے منہاج القرآن کونسل کا وجود عمل میں لایا گیا ہے۔

اسلام کی کوئی تحریک علماء کرام اور مشائخ عظام کی قیادت کے بغیر منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ انہی مقاصد اور ضروریات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے علماء و مشائخ کے دروازوں پر دستک دی جا رہی ہے کہ آیئے! ہم سب مل کر دینی اقدار کے احیاء، تحفظ اور اقامت دین کے لئے اپنا کردار ادا کر کے مصطفوی نظام کا خواب شرمندہ تعبیر کریں۔

اہداف[ترمیم]

منہاج القرآن علماء کونسل کے اہداف درج ذیل ہیں:

1. دعوت وتبلیغ دین[ترمیم]

اس سلسلہ میں تحریک منہاج القرآن سے وابستہ جملہ علماء کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے علاقہ میں کسی مسجد، مدرسے یا کسی مناسب مقام پر عرفان القرآن کورس اور درس عرفان السنہ کا اہتمام ضرور کریں، جس میں لوگوں کو دعوتی کارڈز، اشتہارات، بینرز اور مسجد میں اعلان کے ذریعے دعوت دی جائے۔ ہماری دعوت کا دائرہ کار تعلق باللہ، تعلق بالرسالت، رجوع الی القرآن، اتحاد امت اور اقامت دین ہونا چاہئے۔

2. فروغ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

تحریک منہاج القرآن کو بپا کئے جانے کا سب سے عظیم اور اہم ترین مقصد یہی ہے کہ ذات رسالتماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قلبی‘ حبی اور عشقی تعلق قائم کیا جائے‘ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی تعلیمات کی اطاعت وپیروی کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔

علماء کونسل اسی مقصد عظیم کے لئے شب وروز مصروف عمل ہے تاکہ ایک بار پھر عصر حاضر میں جمال مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شناسائی پیدا کر کے عشق ومحبت کی قوت سے امت مرحومہ کی پستیوں کو بلندیوں میں بدلا جا سکے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصور کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ازسرنواجاگر کیاجائے تاکہ عصر حاضر کے ملی بگاڑ اور عظمت ومحبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ناآشنائی کے سبب پیدا ہونے والے روحانی زوال کا جائزہ لیا جا سکے اور ہم اصلاح احوال کی طرف متوجہ ہوں۔

ہمارے علم میں ایک طرف حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ عظمت وشان ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بارگاہ خداوندی میں حاصل ہے تو دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شوکت ورفعت کا علو جس کے پھریرے اقلیم فرش وعرش پرلہرا رہے ہیں ۔ اس تصور کو حتی المقدور تحریر وتقریر کا جامہ پہنا کر عوام الناس میں متعارف کروایا جائے تاکہ پھر سے اسلام کی عظمت کا احیاء ‘ عظمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ممکن ہو سکے۔

3. عقائد صحیحہ کا دفاع اورفروغ[ترمیم]

آج جہاں امت مسلمہ گروہی‘ لسانی‘ قومی اور بین الاقوامی تعصبات کا شکار ہے وہیں پر تفرقہ بازی اور مسلکی تعصب کی بنا پر عقائد صحیحہ کو بھی بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں عقیدئہ توحید کا غلط مفہوم پیش کر کے کئی لوگ گستاخی رسو لؐ کے مرتکب ٹھہرے‘ اسی طرح تفرقہ کی بنا پر اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے ایسے گروہ پیدا ہوئے۔ جو ادب و محبت میں غلو اور افراط وتفریط سے کام لیتے ہوئے ان ہستیوں کی شان میں گستاخی کے مرتکب ٹھہرے اسی طرح اولیاء ‘ صالحین‘ مزارات ‘ تبرکات‘ شفاعت ‘ علم غیب اور دیگر عقائد کو ایک خاص طبقے کی طرف سے بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ ان حالات میں منہاج القرآن علماء کونسل نے قرآن وحدیث اور قرون اُولیٰ کے اسلاف کی تعلیمات سے عقائد صحیحہ کادفاع نہ صرف عقلی ونقلی دلائل سے کیابلکہ حکمت و تدبر اور بیان کے ذریعے باطل عقائد کا سرکچل دیا اور لوگوں کو اعمال واحکام کی طرف راغب کر کے صحیح عقائد کا چہرہ دکھا دیا ہے۔

4. مسلکی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی[ترمیم]

اس وقت امت مسلمہ مسلکی بنا پر کئی فرقوں میں تقسیم ہو چکی ہے جس وجہ سے عدم برداشت‘ انتہاء پسندی‘ دہشت گردی ‘ دینی اقدار اور اسلامی شعائر کا مذاق ہماری پہچان بنتی جا رہی ہے ۔ اسی طرح اپنے آپ کو درست اور دوسروں کو غلط تصور کئے جانے نے امت مسلمہ کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

ان حالات کے پیش نظر منہاج القرآن علماء کونسل امت مسلمہ کی راہنمائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ عامۃ الناس اور اہل علم ودانش میں حوصلہ‘ برداشت ‘ باہم رواداری اور ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کا تحفظ اور احترام کو برقرار رکھا جائے ۔ اس طرح تمام کلمہ گو مسلمان ایک دوسرے کے قریب ہوں اور یہی وہ کردار ہے جس کے ذریعے امت مسلمہ تفرقہ بازی ‘ انتہاپسندی اور دہشت گردی جیسی بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتی ہے۔

5. احیائے اسلام کے لئے کاوشیں[ترمیم]

آج ضرورت ہے کہ دین کی مٹی ہوئی قدروں کو پھر سے زندہ کیا جائے ‘ کفروطاغوت کے باطل ہتھکنڈوں کو مروڑ دیا جائے ‘ ہر چیلنج کا منہ توڑ جواب دیا جائے‘ باطل افکار ونظریات کا رد کیاجائے‘ احوال زمانہ کو بدل دیاجائے ‘ کفرکے ایوانوں میں لرزہ برپا کر کے امت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو کنارے لگا کر دین اسلام کا پرچم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سربلند کر دیاجائے تاکہ لوگ ایک بار پھر دین کی طرف کشاں کشاں دوڑے چلے آئیں۔

آج ضرورت ہے کہ دینی اقدار‘ اسلامی شعائر‘ خانقاہی نظام اور اخلاص پر مبنی تعلیم و تربیت کو اس طرح عام کیاجائے تاکہ دین کی مٹی ہوئی اقدار کو پھر سے زندہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے علماء ومشائخ کا بیدار ہوکر اپنا کردار ادا کرنا بہرصورت ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لئے شیخ الاسلام مدظلہ نے شب وروز ایک کر رکھا ہے اور علماء کونسل ان کے شانہ بشانہ مصروف عمل ہے۔

6. اتحاد امت اور اقامت دین[ترمیم]

ہماری تمام ترکاوشوںکا اہم ترین مقصد یہ ہے کہ بالعموم پوری دنیا کے مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دی جائے اوربالخصوص وطن عزیز کے علماء ومشائخ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے تاکہ اقامت دین اسلام کے لئے اجتماعی کاوشیں بروئے کار لائی جا سکیں اس مقصد کے حصول کے لئے منہاج القرآن علماء کونسل کے زیراہتمام ملکی وبین الاقوامی سطح پر مختلف کانفرنسز‘ مذاکرے اور باہمی تبادلہ خیال کے فورمز منعقد کئے جاتے ہیں نیز مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ آنے کی دعوت دے کر بھی اتحاد اور اقامت دین کے لئے عملی کاوشیں بروئے کار لائی جاتی ہیں۔

7. منہاج القرآن علماء کونسل سے وابستگی کا طریقہ[ترمیم]

ایسے تمام علماء ومشائخ جو درج بالا منہاج القرآن علماء کونسل کے مقاصد سے ذہنی ہم آہنگی رکھتے ہوں نیز شیخ الاسلام پروفیسرڈاکٹر محمدطاہر القادری کی کاوشوں اور خدمات کے معترف ہوں اور اس قیادت کے شانہ بشانہ کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں اور باقاعدہ تنظیم سے وابستہ ہو کر اپنی صلاحیتوں کو دین اسلام کی خدمت کے لئے وقف کرنا چاہتے ہوں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ منہاج القرآن علماء کونسل میں شمولیت کا فارم حاصل کریں(اس کتابچہ کے آخر میں لف ہے) اور اسے مکمل کر کے مرکزی دفتر میں دستی جمع کرادیں یا بذریعہ ڈاک ارسال کریں۔

یاد رہے کہ منہاج القرآن علماء کونسل کی رفاقت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس عالمگیر مصطفوی مشن میںماہانہ زرتعاون 35/- روپے ‘ سالانہ 400 روپے جبکہ تاحیات رفاقت کے لئے 5000/- روپے جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ اس طرح علماء کونسل کی باقاعدہ رفاقت حاصل کرنے سے مرکز کی طرف سے مجلہ العلماء اور دیگر وقتاًفوقتاً شائع ہونے والا تحریری مواد علماء و مشائخ کی خدمت میں پیش کیا جاتارہے گا۔

وابستہ[ترمیم]

علماء حضرات اپنی مساجد، مدارس، کانفرنسز اور مختلف دینی محافل کے مواقع پر لوگوں کو دعوت عام دیں گے کہ جو لوگ منہاج القرآن سے ذہنی اور قلبی ہم آہنگی رکھتے ہیں اور تحریک منہاج القرآن کے کام اور فکر کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔وہ وابستگی کا فارم حاصل کر کے اسے پر کریں اور کسی ذمہ دارساتھی کے پاس جمع کر ا دیں ۔ وہ بعد ازاں اسے مرکز بھیجنے کا پابند ہو گا۔ یادرہے کہ وابستگی کا زرتعاون زندگی میں صرف ایک بار پانچ(۵) روپے ادا کرنا ہیں۔ نیز عامۃ الناس کو بھی اس کی ترغیب دے کر تحریک منہاج القرآن کا وابستگی فارم پرکروائیں۔

ذمہ داریاں[ترمیم]

ہر سال منہاج القرآن علماء کونسل کا ورکنگ پلان تیارکیا جاتاہے جس کے مطابق کام کو تقسیم کیاجاتاہے اس سال جون 2007 تا 2008 ورکنگ پلان تیار کیاگیا جسے CEC, CWC اور مجلس شوریٰ سے منظور کرایا گیا جس کے مطابق درج ذیل طریقے سے کام کو تقسیم کیا گیا

1. رفاقت سازی[ترمیم]

ایسے علماء ومشائخ جو تحریک منہاج القرآن سے ذہنی ہم آہنگی اور حضور شیخ الاسلام سے تعلق رکھنے والے ہوں گے انہیں علماء کونسل کا رفیق بننے کی دعوت دی جائے گی اور ہر سال سینکڑوں علماء کواس مصطفوی مشن سے وابستہ کیا جائے گا۔ انشاء اللہ العزیز بہت جلد ہزار ہا علماء ومشائخ کو فروغ عشق مصطفی کے اس عالمگیر مشن سے وابستہ کیا جائے گا۔ جس کے لئے تحصیلی اوریونٹ سطح کی تنظیمات اہم کردار ادا کر یں گی۔

2. تنظیم سازی[ترمیم]

منہاج القرآن علماء کونسل سے وابستہ ہونے والے علماء کو تنظیمی ذمہ داریاں دی جائیں گی اور یہ تنظیمات مرکزی‘ صوبائی اور تحصیلی سطح پر قائم کی جائیں گی ۔ اس وقت بحمدہ تعالی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کے تصدق سے اکثر شہروںمیں تحصیلی سطح پر تنظیم سازی کاعمل وجود میں لایا جا چکا ہے۔ جبکہ یونین کونسلز کی سطح پر بھی تنظیم سازی جاری ہے۔

تحصیلی تنظیم کا ڈھانچہ[ترمیم]

  1. صدر
  2. نائب صدر
  3. ناظم
  4. نائب ناظم
  5. ناظم تربیت
  6. ناظم مالیات
  7. ناظم رابطہ/ دعوت
  8. ناظم نشرواشاعت


3. عرفان القرآن کورس[ترمیم]

منہاج القرآن علماء کونسل کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ ایسے علماء اورمدرسین کو تلاش کریں جو قرات وتجوید اور عربی ترجمہ پڑھانے کا تجربہ رکھتے ہوں‘ تاکہ اپنے علاقہ کے عامۃ الناس ‘ طلباء و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو قرآن مجید سے وابستہ کرنے کے لئے ترجمہ قرآن سکھایا جائے۔

اس مقصد کے حصول کے لئے مرکز سے مکمل کورس دستیاب ہے نیز اس کے پڑھانے کا طریقہ اور دیگر لوازمات کے سلسلہ میں علماء کونسل کی مرکزی قیادت سے رابطہ کریں۔ آپ کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر کم ازکم 50 مقامات پر عرفان القرآن کورس کی کلاسز کا آغاز کیاجائے گا۔ جس کے لئے تحصیلی مرکزی سطح پر تربیتی کیمپس کا انعقاد ہو گا تاکہ اس کورس کا طریقہ تدریس بتایا جا سکے۔

4. دروس عرفان السنہ[ترمیم]

شیخ الاسلام پروفیسرڈاکٹر محمدطاہرالقادری مدظلہ العالی نے جو احادیث کی کتاب منہاج السوی مرتب کی ہے ۔ اس کتاب سے روزانہ صبح نماز فجر کے بعد یا ہفتہ بھر میں ایک دن نماز فجر یا کسی اور نماز کے بعد 10 سے 15 منٹ کے لئے چند احادیث کاترجمہ اور مفہوم بیان کیاجائے گا اور لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کے لئے ترغیب دی جائے۔

5. سہ ماہی العلماء[ترمیم]

علماء کے لئے خالصتاً ایک علمی وتحقیقی رسالہ ’’العلمائ‘‘ کی اشاعت کا اہتمام کیاگیاہے جسے بعدازاں کوشش کی جائے گی کہ ماہانہ بنیادوں پر جاری کیا جائے اس رسالے میںوطن عزیز کے نامورجید علمائے کرام اور مشائخ عظام کے ایمان افروز مضامین شائع کئے جائیں گے نیز مختلف علماء کی جانب سے شائع ہونے والی کتب کا تعارف اور تبصرہ اور علماء کی خدمات کو اجاگر کیاجائے گا یہ رسالہ چونکہ علماء کاہے لہذا اہل علم ودانش کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اس رسالہ کے لئے اپنے مضامین ‘ یاداشتیں اور امت مسلمہ کی راہنمائی کے لئے اپنی تحریریں علماء کونسل کے دفتر ضرور ارسال کریں۔

6. مساجد و مدارس دینیہ[ترمیم]

آج اکثر مساجد ومدارس دینیہ ویران اور غیرآباد دکھائی دے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ تعلیم وتربیت کا نہ ہوناہے ہم علماء کونسل کے زیراہتمام مساجد کو تعلیم وتربیت کا ایسا مثالی مرکز بنائیں گے‘ جہاں نہ صرف پانچ وقت کی نماز ادا ہو بلکہ اسی مسجد میں سکول ایجوکیشن کا بھی اہتمام کیا جائے گا اور سکول یاکالجز میں نہ جانے والے افراد کو مسجد میں تعلیم فراہم کر کے جہالت کے اندھیروں کو ختم کیا جائے گا ۔ اسی طرح دینی مدارس میں صرف ونحو‘ فقہ‘ تفسیر اور منطق وغیرہ کے ساتھ عصری علوم کو بھی درسی نصاب کا حصہ بنایاجائے گا جس میںانگلش ‘ ریاضی ‘ سائنس ‘ کمپیوٹر اور تقابلی مطالعہ کو بھی شامل کر کے دینی مدارس کو تعلیم وتربیت کا ایسا مرکز بنایاجائے گا جہاں سے فارغ التحصیل طلبائ/طالبات معاشرے کے اچھے شہری اور اچھے مسلمان بن سکیں۔سردست 200 مساجد کو درس وتدریس کا مرکز بنایا جائے گا۔

7. تعلیم و تربیت[ترمیم]

اگر ہم گردوانواح کا جائزہ لے کر دیکھیں تو مدارس‘ مساجد‘ سکول ‘ کالجز اور یونیورسٹیز کی بھرمار دکھائی دیتی ہے جگہ جگہ تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اس کے باوجود ہم ایسے افراد پیدا کرنے سے قاصر ہیں جو ملک وقوم اور امت مسلمہ کے لئے کوئی اہم کردار ادا کر سکیں ۔ اس کی بنیادی وجہ تربیت کی کمی ہے علم ہے عمل نہیں‘ تصور ہے یقین نہیں‘ منزل سے آشنائی ہے منزل تک پہنچنے کا طریقہ نہیں لہذا اس کمی کو دور کرنے کے لئے علماء کونسل تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا ایسا جامع نظام دینا چاہتی ہے جس کے ذریعے اخلاقی وروحانی دینی ودنیاوی ‘ معاشی ومعاشرتی اور تہذیبی وثقافتی تربیت کا سامان میسر ہو سکے۔ نیز ہم علماء اور مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل طلباء کے لئے وقتا فوقتا مختلف موضوعات اور کورسز پر مشتمل تربیتی کیمپس کا انعقاد بھی کریں گے تاکہ دینی طلباء کی درست راہنمائی کی جا سکے۔

8. علمائے کرام کی عزت و وقار کی بحالی[ترمیم]

منہاج القرآن علماء کونسل اپنے تمام علماء کے لئے ایسے کورسز کااہتمام کرے گی جس کے ذریعے علمی وعملی اور تعلیمی وتربیتی کمزوریوں کو دور کیاجا سکے نیز اس سلسلہ میں مسجد کمیٹی کے ذمہ داران کے لئے بھی رابطے کا اہتمام کیا جائے گا جس میں علماء کی عزت اور وقار کی اہمیت کو اجاگر کیاجائے گا۔ انشاء اللہ العزیز بہت جلد ایسا وقت آئے گا کہ جب علماء صحیح معنوںمیں اپنا کردار ادا کررہے ہوں گے اور معاشرے کا ہر فرد ان کی عزت اور احترام میں مصروف عمل ہوگا۔

9. ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس جہان فانی سے پردہ فرما جانے کے بعد جن فتنوں نے تسلسل کے ساتھ سراٹھا یا وہ نبوت کے جھوٹے دعویدار لوگوں کا تھا۔ اس فتنے کا سرکچلنے کے لئے خلفائے راشدین ‘ صحابہ کرام ‘ تابعین ‘ تبع تابعین ‘ صالحین امت اور علماء ومشائخ نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ۔ کبھی تو یہ فتنہ ختم نبوت کے انکار کی صورت میں برپا ہوا اور کبھی ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی اور بے ادبی کی صورت میں ‘ لیکن جب بھی اس فتنے نے وسعت اختیار کرنے کی کوشش کی تو باری تعالی نے ایسی جلیل القدر ہستیوں کو بھیجا کہ جنہوں نے ان فتنوں کا سرکچل کر رکھ دیا‘ آج ایک بار بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پرناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے ہو رہے ہیں کبھی کارٹون بنا کر‘ کبھی گستاخان رسولؐ کو اعزاز واکرام دے کر اور کبھی ذات رسالتماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وجہ نزاع بنا کر ان حالات کے پیش نظر علماء حق اور مشائخ عظام کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ بیداری کا ثبوت دیںاور ایسی تمام صہیونی اور سازشی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اس وقت شیخ الاسلام پروفیسرڈاکٹرمحمدطاہر القادری گستاخان رسولؐ ‘ ختم نبوت کے انکاری اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر طعن وتشنیع کرنے والے ظالموں کے لئے ننگی تلوار کاکام کرر ہے ہیں آپ کی تحریر‘ تقریر‘ وعظ‘ نصیحت اور تمام تر کاوشیں تحفظ ناموس رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے ہیں یہی وجہ ہے کہ علماء کونسل بھی اپنی قیادت کے نقش قدم پر چل کراس کار خیر میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

10. اہل بیت اطہار، صحابہ کرام اور اسلاف کے دن منانا[ترمیم]

علاقائی ولسانی تعصب اور تفرقہ بازی نے امت مسلمہ کو کئی دھڑوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے جس وجہ سے اہل بیت اطہار کے ایام منانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایام نہیں مناتے اوراسی طرح صحابہ کرام کے دن منانے والے اہل بیت کو یاد نہیں کرتے۔ نیز اولیائ‘ صالحین اور بزرگان دین کے ساتھ قلبی وحبی تعلق کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔

اس کمی اور خلا کو پورا کرنے کے لئے منہاج القرآن علماء کونسل کے زیراہتمام اسلامی مہینوں میںاہل بیت اطہار‘ صحابہ کرام اور اپنے اسلاف کے ایام منانے کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا اور یہ عمل تحصیلی‘ صوبائی اور مرکزی سطح تک کانفرنسز اور خصوصی محافل کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچا یاجائے گا تاکہ نسل نو کا تعلق اپنے اسلاف سے نہ صرف قائم ہو بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے

11. امت کی رہنمائی[ترمیم]

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دین اسلام اور امت مسلمہ پر کڑا اور مشکل وقت آیا تو یہ علمائے ربانیین ہی ہیں جنہوں نے اپنی محنت، اخلاص اور وفاداری کے ذریعے ہر ہر موقع پر امت کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی، حضرت مجدد الف ثانی، امام احمد رضاخان بریلویؒ، پیر مہر علی شاہ، داتا علی ہجویری، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر اورحضرت سلطان العارفین یہ تمام ہستیاں جنہیں ہر کوئی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے، علماء و مشائخ کے طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ آج امت مسلمہ ایک بار پھر مشکلات سے دوچار ہے لہذا منہاج القرآن علماء ومشائخ کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر امت کی راہنمائی کے لئے کاوشیں کی جاری ہیں اور امت مسلمہ کی رہنمائی کے لئے مختلف محافل، کانفرنسز اور لٹریچر کے ذریعے خدمت کی جا رہی ہے۔