قومی امن کانفرنس

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
National-peace-conference.jpg

مؤرخہ 9 اپریل 2009ء کو تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر واقع گوشہ درود سے متصل صفہ ہال میں قومی امن کانفرنس کا انعقادہوا، جس میں پاکستان کی تمام سیاسی، سماجی اور مذھبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور مشترکہ اعلامیہ کی منظوری دی۔

فہرست

پس منظر

تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے زیراہتمام ہونے والی قومی امن کانفرنس میں پاکستان کی سیاسی، مذہبی جماعتوں، فلاحی تنظیموں، وکلاء، علماء، اساتذہ، طلبہ، صحافی، تاجر اور مختلف طبقہ ہائے زندگی کی نمائندہ تنظیموں کے 150 نمائندگان شریک ہوئے۔ کانفرنس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے بذریعہ ٹیلی فون خطاب کیا۔ کانفرنس کے سیکرٹری کے فرائض تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی اور نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض نے سرانجام دیے۔

شرکاء

خطاب شیخ الاسلام

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام ہونے والی ’’قومی امن کانفرنس‘‘ جس میں ملک بھر کی نمائندہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے شرکت کی کانفرنس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت ہے کہ اسلام دین محبت و امن ہے۔ اسے یہاں دلائل سے ثابت کرنے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں کہ ہمارے دینی مصادر اور ہماری چودہ سو سالہ تاریخ خود اس حقیقت پر سب سے بڑی شہادت ہے۔ قرآن نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل اور ایک جان کی حفاظت پوری انسانیت کو زندہ رکھنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ہمارے پیغمبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ اس کے ہاتھ اور اس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ گویا ناحق جان تلف کرنا تو کجا بلا وجہ بد کلامی کا مرتکب ہونے والا بھی حقیقی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔

آج پوری دنیا میں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دہشت گرد نہ صرف امن کے دشمن ہیں بلکہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کے خلاف امن پسند قوتوں کو جدوجہد کرنا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ اس دہشت گردی کو ہوا کس نے دی؟ یہ محاذ کس نے کھولا؟ آج سے دس سال قبل تک تو یہ صورتحال ہمارے ہاں نہیں تھی۔

پھر یہ دہشت گردوں کے لشکر اچانک کہاں سے نمودار ہونے لگے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما عالمی قوتوں نے خود ہی یہ بت گھڑ لیا ہے اور اب قیام امن کے نام پر پوری دنیا کو تہذیبی تصادم میں جھونکا جا رہا ہے۔ اس لئے امن قائم کرنے کے لئے دہشت گردی کی مذمت ہی کافی نہیں بلکہ سب سے پہلے امن کے حقیقی دشمنوں کی شناخت کی جانا چاہئے۔ اس ضمن میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات فاٹا، وزیرستان اور سوات وغیرہ پر امن سیدھے سادھے اور دیندار مسلمانوں کے علاقے ہیں یہاں بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی میسر نہیں۔ اکثریت تنگ دست محنت کش لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہ اچانک دو تین سالوں میں یہاں کیا انقلاب آگیا ہے کہ ان لوگوں کے اندر ملک دشمنی کے جراثیم پیدا ہوگئے وہ سب لوگ پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف صف آراء ہو چکے ہیں اور انہیں اندھا دھند قتل کر رہے ہیں۔ ان کے پاس اس بے سروسامانی کے ماحول میں اس قدر جدید جنگی سہولتیں مہلک ہتھیار اور عسکری مہارت کہاں سے آگئی؟ کون ان دہشت گردوں کو ٹریننگ، اسلحہ اور وافر سرمایہ فراہم کر رہا ہے؟ اب جبکہ یہ بات بے شمار حقائق کی بنا پر کھل کر کہی جارہی ہے کہ اس دہشت گردی کو بیرونی طاقتیں سپورٹ کر رہی ہیں۔ اگر واقعتًا ایسا ہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری سابقہ اور موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں کیا کرتی رہی ہیں؟ انہوں نے اس ناسور کو کیوں بڑھنے کا موقع دیا؟ ڈرون حملے قبائلی علاقوں میں روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حملے ایک آزاد اور خود مختار ملک کی بقا اور سلامتی پر حملے ہیں۔ حکومت نے امریکہ کو اس سنگین سرحدی خلاف ورزی کی اجازت کیوں دی اور کس فورم پر دی؟ فرض کریں یہ حملے خطرناک اور غیر ملکی دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لئے کئے جاتے ہیں تو آج تک ان کی کوئی تفصیل پریس میں کیوں نہیں آئی؟

اسی طرح ہماری آرمی ہر روز سو پچاس شر پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کرتی ہے مگر آج تک ان کی پہچان بھی ممکن نہیں ہو سکی ان دو طرفہ حملوں سے مقامی آبادی کے بے بس لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں اور بقیہ زندہ بچ جانے والے در بہ در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ آخر یہ کونسا امن قائم ہو رہا ہے؟ یہاں ایک بڑا سوالیہ نشان یہ بھی ہے کہ ا مریکہ اگر ان لوگوں کو ختم کرنا چاہتا ہے تو بہت سے لوگ جو حقیقی معنوں میں شرپسندی پھیلا رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ کو کئی بار دھمکیاں بھی دی ہیں انہیں نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟ ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کے بے شمار شہریوں کو محض شک کی بناء پر اٹھا لیا گیا ہے مگر افغانستان سمیت ان سرحدی علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ان لوگوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے جو کھلے عام عسکری کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کے نیم خواندہ کمانڈر میڈیا کو بریفنگ بھی دیتے ہیں دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کے منصوبوں کا انکشاف بھی کرتے ہیں اور سیٹلائٹ کے اس دور میں وہ پکڑے بھی نہیں جاتے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کو بھی کھٹکتے ہیں۔ ان سب سوالوں سے بڑھ کر تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جتنی طویل ہو رہی ہے دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے تیزی سے پھیل رہی ہے۔

پہلے یہ جنگ افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آئی وہاں خانہ جنگی کے بعد اب اس کا رخ کوئٹہ، اسلام آباد، لاہور، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور اور آرمی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہماری مساجد، امام بارگاہیں، مقدس مقامات، اولیاء کرام کے مزارات، تعلیمی ادارے اور ہسپتال بھی محفوظ نہیں رہے۔

یقیناً یہ وقت ہمارے لئے بڑا نازک اور افسوسناک ہے مگر محض افسوس کرنے یا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے سے ہم اس حملے سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ہماری سلامتی پر یہ حملے بیرونی طاقتوں کی طرف سے ہوں یا اندرونی شرپسندوں کی طرف سے ہمیں اس وقت سنجیدہ قومی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بنیادی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ اس نے ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ نے متفقہ قرار داد بھی منظور کر رکھی ہے، ہماری سیاسی، مذہبی اور فوجی قیادت کو بہت چوکنا رہنے اور فیصلہ کن عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

  1. ہمیں از سر نو خارجہ پالیسی وضح کرنی چاہئے جس میں دوست اور دشمن کی واضح نشاندہی ہونی چاہئے۔
  2. ہمیں بھارت، افغانستان اور خصوصاً امریکہ کے ساتھ قومی نفع و نقصان کی روشنی میں تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
  3. ہماری بقاء اور سلامتی کا تحفظ باہر سے آ کر کوئی بھی نہیں کرے گا حتی کہ کوئی اسلامی ملک بھی کام نہیں آئے گا اس لئے اپنی فکر خود ہی کرنی پڑے گی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔
  4. ہمیں سفارتی ذرائع کو بھرپور استعمال میں لاتے ہوئے قیام امن کی کاوشیں تیز کرنا ہوں گی۔
  5. اس وقت طالبان ایک مخصوص مذہبی رجحان کے نمائندہ اور شناخت بن چکے ہیں۔ پاکستان کے بعض علماء انہیں اپنا Brainchild بھی کہتے ہیں اس لئے ان پر سب سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھ کر انہیں دین کا حقیقی تصور سمجھائیں تاکہ وہ دین و ملت کے عالمی دشمنوں کے آلہ کار بن کر نہ تو اسلام کو بدنام کریں اور نہ ہی واحد ایٹمی اسلامی مملکت کی تباہی میں حصہ دار بنیں۔

قومی امن کانفرنس کا اعلامیہ

  1. جملہ سفارتی ذرائع، دوست ممالک اور دیگر عالمی اداروں اور تنظیموں کے ذریعے ڈرون حملوں کے سلسلے کو فوری طور پر بند کروایا جائے۔
  2. حکومت پاکستان افغانستان میں عالمی طاقتوں کی War against terrorism میں معاونت کو ڈرون حملوں اور مداخلت کے خاتمے کے ساتھ مشروط کرے۔
  3. موجودہ معذرت خواہانہ اور بے بسی پر مبنی خارجہ پالیسی کو فوری طور پر تبدیل کرکے آزادانہ اور برابری کی سطح پر باوقار خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے۔
  4. بیرون ملک پاکستانی سفارخانوں کو متحرک کرکے وہاں اہل، قابل اور صحیح معنوں میں محب وطن افراد کی تعیناتی کی جائے اور پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف ہونے والے منفی اور مذموم پراپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا جائے۔
  5. پاکستان میں ہونے والی بدترین دہشتگردی کے پیچھے بیرونی عناصر بالخصوص ہمسایہ ملک کی مداخلت کو جرات مندانہ اور پرُحکمت طریقے سے بے نقاب کر کے اس کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر ٹھوس لائحہ عمل بنا کر فوری اقدامات کیے جائیں۔
  6. دہشتگردوں کی آزادانہ نقل و حمل اور ان کو ملنے والی رسد کے جملہ ذرائع کو ریاستی مشینری کے بروقت اور مؤثر استعمال سے بند کیا جائے۔
  7. دہشتگردوں کے ممکنہ ٹارگٹس بالخصوص ریاستی اداروں، مذہبی مقامات و اجتماعات اور عوامی مقامات کی حفاظت کے لیے فول پروف اقدامات کیے جائیں اور عامۃ الناس کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
  8. دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف فوجی آپریشن پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر ذرائع اور سیاسی اقدامات کے راستے کو اپنایا جائے۔
  9. پاکستان کے پسماندہ علاقہ جات بالخصوص قبائلی علاقوں سے غربت، جہالت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
  10. ملک میں سیاسی استحکام، آزاد عدلیہ، اداروں کی مضبوطی، آئین اور ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام، مہنگائی کے خاتمے اور عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اور ظلم و استحصال کی ہر شکل کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ دہشتگردی کا باعث بننے والے جملہ عوامل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
  11. صوبہ سرحد اور بلوچستان میں مسلسل ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جن سے وفاق پاکستان کو خطرات لاحق ہیں۔ حکومت اس حوالے سے جملہ سازشوں کو بے نقاب کرے اور ان کے خاتمے کے لیے فوری لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
  12. درج بالا نکات کی روشنی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک قومی پالیسی تیار کی جائے اور پوری قوم کو اعتماد میں لے کر اس کے نفاذ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

قومی امن کونسل کا قیام

قومی امن کانفرنس کے دوران دہشتگردی کے اسباب کی تشخیص، اس کے فروغ کی وجوہات، اس کی پشت پنائی کرنے والے اندرونی و بیرونی عناصر کے تعین، اس کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل کے تعین اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو وضح کرنے کے لئے "قومی امن کونسل" (National Peace Council) تشکیل دی گئی۔

اراکین قومی امن کونسل

قومی امن کونسل کے چیئرمین شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جبکہ دیگر اراکین میں جہانگیر بدر (سیکرٹری جنرل PPP)، ظفر اقبال جھگڑا (سیکرٹری جنرل PML-N))، مشاہد حسین سید (سیکرٹری جنرل PML-Q)، احسان وائیں (سیکرٹری جنرل ANP)، ڈاکٹر فاروق ستار (کنوینیئر MQM)، مولانا امجد (مرکزی سیکرٹری اطلاعات جمعیت علماء اسلام)، غلام مصطفیٰ کھر (سابق گورنر پنجاب)، لیاقت بلوچ (مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی)، ڈاکٹر رحیق احمد عباسی (سیکرٹری جنرل تحریک منہاج القرآن)، انوار اختر ایڈووکیٹ (سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک)، اعجاز احمد چودھری (مرکزی نائب صدر پاکستان تحریک انصاف)، ڈاکٹر سرفراز نعیمی، ابتسام الٰہی ظہیر (صدر جمعیت اہلحدیث)، حافظ عاکف سعید (امیر تنظیم اسلامی)، غلام احمد بلور (وفاقی وزیر ریلوے)، علی احمد کرد ( نمائندہ بار / صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن)، پیر سید نوبہار شاہ (سربراہ شیعہ پولیٹیکل پارٹی)، ڈاکٹر مجید ایبل (نمائندہ اقلیتی برادری)، مس فردوس بٹ (سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن)، چودھری خادم حسین قیصر (سابق وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل)، قاری زوار بہادر (سیکرٹری جنرل جمعیت علماء پاکستان)، سہیل محمود بٹ (چیئرمین انجمن تاجران مال روڈ)، نذیر احمد چوہان (نمائندہ تاجران)، ڈاکٹر رفیق احمد (نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن)، سید راشد گردیزی (نمائندہ طلبہ / صدر متحدہ طلبہ محاذ)، ہما عزیز (نمائندہ خواتین / صدر پاکستان ویمن ورکرز فیڈریشن)، پروفیسر محمد اعوان (نمائندہ انجمن اساتذہ)، پروفیسر محمد اکرم چشتی (نمائندہ اساتذہ / مرکزی ڈپٹی سیکرٹری انجمن اساتذہ پاکستان)، ملک حاکمین (سینیٹر / PPP)، سردار کلیان سنگھ کلیان (نمائندہ سکھ اقلیتی برادری / جنرل سیکرٹری گرونانک جی مشن پاکستان)، ڈاکٹر منوہر چاند (نمائندہ ہندو اقلیتی برادری)، ڈاکٹر اویس فاروقی (نمائندہ NGO / صدر فوکس پاکستان)، ذوالفقار علی (PSO)، سردار رؤف (چیئرمین جموں و کشمیر )، کرنل قیصر (ایکس سروس مین)، سید راحیل شاہ (PSF)، خالد پرویز (صدر پیپلز مسلم لیگ لاہور)، سید دانش (ISO)، شبیر سیال (نمائندہ تحریک انصاف)، پادری چمن (لاہور چرچ) سینئر صحافی افتخار احمد، نعیم مصطفیٰ گل چمن شاہ، امجد اقبال اور ناصر نقوی شامل ہیں۔

یہ بھی طے کیا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ تمام قومی و صوبائی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہ ممبر ہو سکتے ہیں۔ یہ کونسل پندرہ دن میں تمام سیاسی جماعتوں اور طبقات کی طرف سے موصول ہونے والی تجاویز و آراء کی روشنی میں ایک ماہ کے اندر ایک قومی لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔

ذاتی اوزار
Variants
ایکشنز
بنیادی روابط
خصوصی روابط
بیرونی روابط