قرآنی فلسفہ انقلاب

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
Qurani falsfa inqilab.jpg

یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جسے براہ راست قرآن حکیم سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھے بغیر قرآن حکیم کے فلسفہ انقلاب کے مبادیات کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس تصنیف کے مطالعہ سے قرآنی معاشرہ کا پس منظر اور پیش منظر قاری کے ذہن پر نقش ہوجاتا ہے۔ اس کتاب میں قرآنی فلسفہء انقلاب، تاریخ زوال امت، مقصد بعثت انبیاء، دعوت اور اس کی اہمیت، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں مصطفوی انقلاب کا منہاج اور دیگر اہم موضوعات پر قرآنی آیات کی روشنی میں مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب میں اس حقیقت کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جب سے ملت اسلامیہ کے ہمہ گیر زوال کا دور شروع ہوا ہے، طاغوتی و استعماری طاقتوں نے اسلام کے بنیادی تصورات میں درج ذیل سات اقسام کے تغیرات پیدا کیے ہیں:

  1. سیاسی فکر میں تغیر
  2. معاشی و اقتصادی فکر میں تغیر
  3. فقہی و قانونی فکر میں تغیر
  4. عمرانی و سماجی فکر میں میں تغیر
  5. تہذیبی و ثقافتی فکر میں میں تغیر
  6. دینی و مذہبی فکر میں میں تغیر
  7. تعلیمی و تربیتی فکر میں میں تغیر

ان تغیرات کا خاتمہ کس طرح ممکن ہے، اس حوالہ سے نصوص قرآنی اور احادیث مبارک سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ مطالعہ قرآن کے انقلابی اسلوب بیان پر مشتمل یہ کتاب اس صدی کی اہم دستاویزات میں شامل ہے۔