اعلامیہ وحدت

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

پاکستان میں اتحاد امت کے فروغ، فرقہ ورایت اور سنی شیعہ فسادات کو روکنے کے لیے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے جس 10 نکاتی اعلامیہ پر دستخط کیے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مثبت انداز فکر، باہمی احترام و رواداری اور بین المسالک رابطوں کی افادیت اور نتیجہ خیزی کا ایک اور واضح ثبوت 10 جنوری 1990ء کا اعلامیہ وحدت ہے۔ یہ اعلامیہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مابین قرار پایا تاکہ اسلامی انقلاب کے لئے برسر عمل جماعتوں کے درمیان متنازعہ امور طے کر کے یکجہتی و ہم آہنگی کے ساتھ ملک میں نفاذِ اسلام کی مشترکہ جدوجہد کی جا سکے۔

اعلامیہ وحدت کے مختصر نکات[ترمیم]

  • اس اعلامیہ وحدت میں عقیدۂ توحید و رسالت کو عقائد کا مرکزی نقطہ اور عمل کی اساس قرار دیا گیا۔
  • اس اعلامیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا اقرار اور آپ کی شان میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ادنی بے ادبی و گستاخی کے مرتکب کو کافر قرار دینے اور قرآن مجید کو الحمد تا والناس تک کمی بیشی اور تحریف سے پاک ہونے کا اقرار تھا۔
  • حبِ اہل بیت کو اساس ایمان اور ان سے بغض و عناد رکھنے والے کی ایمان سے محرومی کے اقرار کے ساتھ ساتھ جملہ صحابہ کرام کے برگزیدہ ہونے اور امہات المومنین اور صحابہ کرام کے ادب و احترام کے وجوب جبکہ ان کی بے ادبی کو حرام قرار دیا گیا تھا۔
  • اسی طرح جملہ ائمہ کرام اور اولیائے امت کے ادب و احترام کو واجب قرار دیا گیا تھا۔
  • اعلامیہ وحدت میں مذہبی رسوم اور خصوصی ایام میں باہمی رواداری اور احترام کو قائم رکھنے اور کشیدگی و تفرقہ سے اجتناب اور ملکی آئین میں قرآن و سنت کی بالادستی کے نکات بھی شامل تھے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے ماہنامہ منہاج القرآن فروری1990ء)[1]

اس اعلامیہ وحدت پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، مولانا محمد معراج الاسلام اور مولانا احمد علی قصوری جبکہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی طرف سے علامہ ساجد علی نقوی، آغا السید علی الموسوی اور مولانا موسیٰ بیگ نے دستخط کئے۔

اس اعلامیہ وحدت کے بعد یہ تجویز بھی زیر غور تھی کہ دونوں جماعتوں کے اشتراک عمل سے مینار پاکستان پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کانفرنس اور امام حسین رضی اللہ عنہ کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی، جس سے شیعہ اور سنی مسالک کے درمیان افہام و تفہیم اور رواداری کی فضا کو تقویت ملے گی۔ لیکن انتہا پسند اور تفرقہ باز بازی لے گئے اور انہوں نے مختلف سازشوں کے ذریعے وحدت ملی کے حسیں خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے سے محروم کر دیا۔

دوسری طرف جن قوتوں کا مفاد ملت اسلامیہ کو باہم دست بگریباں رکھنے میں ہے یا جو انتہا پسندی اور تنگ نظری کا شکار ہیں، انہوں نے اس اعلامیہ وحدت پر بھی خوب شور مچایا اور غلط فہمیوں کو پھیلانے میں اپنا پورا زور صرف کردیا۔ ان کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ اعلامیہ کے الفاظ کیا ہیں اور کیا ہونے چاہئیں۔ یہ لوگ سرے سے وحدت ملی اور بین المسالک میل جول اور رواداری کے ہی خلاف ہیں۔

ان لوگوں کی سوچ پر تعجب ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اہل کتاب کو بھی مشترک بنیادوں پر تعاون کی دعوت دی اور فرمایا :

{{#if:|
width="20" valign="top" style="color:#6495ED;font-size:{{#switch:20px 10px=20px 30px=60px 40px=80px 50px=100px 60px=120px قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ[2]

ترجمہ: ’’آپ فرما دیں : اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے‘‘۔

width="20" valign="bottom" style="color:#6495ED;font-size:{{#switch:20px 10px=20px 30px=60px 40px=80px 50px=100px 60px=120px
{{#if:|

—{{{4}}}{{#if:|, {{{5}}}}}

}}

}}

اگر ایک غیر مسلم اہل کتاب کو مشترک بنیادوں پر دعوت دی جا سکتی ہے تو کیا اہل اسلام اہل کتاب سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے وسیع تر مفاد کی خاطر رواداری اپناتے ہوئے باہم مشترک بنیادیں تلاش کر کے جمع نہیں ہو سکتے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اسی اشتراک کو ’’الجمع بين المختلفات‘‘ کا نام دیتے ہیں یعنی جو عقیدہ ہر جماعت کا ہے اس پر قائم رہتے ہوئے باہم مشترک نکات کو تلاش کریں اور اس کی بنیاد پر رواداری اپنائیں۔ ایک دوسرے سے علمی اختلاف تو رکھیں لیکن اسے مخالفت کا رنگ نہ دیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے اکابر کی توہین اور تکفیر کی جائے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]