آغوش کمپلیکس وکیپیڈیا

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
آغوش کمپلیکس کی عمارت

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سرپرستی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت لاہور میں قائم ہونے والا یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت اور تعلیم کا فلاحی ادارہ، جس کا آغاز صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں 8 اکتوبر 2005ء کو آنے والے زلزلہ سے متاثرہ یتیم بچوں سے کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس میں دیگر علاقوں کے بچے بھی داخل ہوتے چلے گئے۔[1]

اغراض و مقاصد[ترمیم]

Aagosh.jpg

آغوش کے قیام کا مقصد یتیم اور معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے بےسہارا بچوں کو محفوظ چھت فراہم کرنا، اعلیٰ تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا اور انہیں معاشرے کا کارآمد اور قابل فخر انسان بنانا ہے۔

محل وقوع[ترمیم]

آغوش کمپلیکس کی عمارت پاکستان کے شہر لاہور کے جنوبی علاقے ٹاؤن شپ میں شاہ جیلانی روڈ کے کنارے پر جامع المنہاج کے ساتھ واقع ہے۔

عمارت[ترمیم]

Aagosh-student.jpg

ابتدائی طور پر آغوش کو پہلے سے تعمیرکردہ ایک عمارت میں قائم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 500 بچوں کی رہائش اور تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بین الااقوامی معیار کے مطابق ایک نئی عمارت بنائی گئی۔ آغوش کمپلیکس کی تعمیر کا آغاز 18 دسمبر 2008ء کو ہوا اور ایک لاکھ 25 ہزار مربع فٹ رقبے پر مشتمل یہ عمارت اڑھائی سال کی مدت میں 4 جون 2011ء کو مبلغ 34 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی۔ یتیم بچوں کی رہائش و سکول پر مشتمل یہ عمارت جدید طرز تعمیر کا عظیم شاہکار ہے، جسے میسرز خلیل کنسٹریکشن کمپنی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس عمارت میں آغوش کے طلبہ کے لیے ایک سکول کے علاوہ ان کے فرنشڈ رہائشی کمرے، میس ہال، لائبریری، Activity Halls اور ان ڈور کھیلوں کی سہولیات کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے۔ تعمیراتی کام میں معاونت کرنے والے صاحبانِ ثروت کے نام سپانسر کردہ بلاکس پہ آویزاں ہیں۔

ماحول[ترمیم]

Aagosh mwf 14-aug-08 03.jpg

آغوش کا اندرونی ماحول روایتی یتیم خانوں کے برعکس خوشگوار، منظم اور گھریلو ہے۔ اپنے مشفق اساتذہ کے زیر سایہ بچے یہاں ایک خاندان کے افراد کی طرح رہتے ہیں، جو اپنے حسن اخلاق سے بچوں کو والدین کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے اپنے تمام تر معاملات بلا جھجھک انتظامیہ کے ساتھ زیر بحث لاتے ہیں اور ان سے مناسب رہنمائی لیتے ہیں۔ آغوش کے ماحول کی یہی انفرادیت اور حسن انتظام اسے ایسے تمام دوسرے اداروں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہاں بچوں کی ہر قسم کی جسمانی، تعلیمی، تربیتی، نفسیاتی اور روحانی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس ادارے کا نصب العین بچوں کو مفید اور معزز شہری بنانا ہے، اس لئے بچوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ بچوں میں اعلیٰ کرداری خصوصیات مثلاً راست گوئی، ایثار، اخوت، ہمدردی، ایمانداری اور تقویٰ جیسی خصوصیات پیدا کرنے کے لیے خصوصی لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔[2]

سہولیات[ترمیم]

آغوش کمپلیکس میں مقیم بچوں کو زندگی کی تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔

  • تعلیم
  • خوراک
  • لباس
  • رہائش
  • علاج

آغوش گرامر سکول[ترمیم]

Aagosh-student 03.jpg

بچوں کی تعلیم کیلئے آغوش کمپلیکس میں آغوش گرامر سکول کے نام سے ایک انگلش میڈیم سکول قائم ہے، جہاں بچے ماہر اساتذہ کے زیرنگرانی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ سکول میں بچوں کیلئے لائبریری کے علاوہ کمپیوٹر لیب، فزکس لیب اور کیمسٹری لیب بھی الگ الگ موجود ہیں۔ اس سکول میں علاقے کے عام بچوں کو بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ یوں یتیم بچوں کو معاشرے کے عام بچوں کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ ہم نصابی و تفریحی سرگرمیوں کا موقع بھی ملتا ہے، جس سے انہیں احساسِ کمتری سے نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ علاوہ ازیں عام بچوں کی فیسوں کی آمدن یتیم بچوں کے کفالتی اخراجات میں معاون ثابت ہوتی ہے، جسے کسی دوسری مد میں استعمال نہیں کیا جاتا۔[3]

تحفیظ القرآن انسٹیٹیوٹ[ترمیم]

سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جو بچے قرآن مجید کے حفظ کا شوق بھی رکھتے ہوں ان کی قابلیت اور طبعی رحجان کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں آغوش کمپلیکس سے متصل تحفیظ القرآن انسٹیٹیوٹ میں قرآن مجید کا حفظ بھی کروایا جاتا ہے۔ یہاں بچوں کا داخلہ عموماً پرائمری تعلیم کے بعد چھٹی جماعت میں ہوتا ہے۔ اس انسٹیٹیوٹ میں بھی انہیں معاشرے کے عام بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔[4]

ایکسڑا کوچنگ[ترمیم]

یتیم اور بےسہارا بچوں کو اپنی شخصیت کے نکھار اور تعلیمی و نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے عام بچوں کی نسبت زیادہ انفرادی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچوں کے اس فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے قابل ٹیوٹرز کا اہتمام کیا گیا ہے، جو مختلف اوقات میں بچوں کی تعلیمی ونفسیاتی مشکلات کو انفرادی سطح پر حل کرتے ہیں۔

ہم نصابی و تفریحی سرگرمیاں[ترمیم]

تعلیم وتربیت کے ساتھ بچوں کی ذہنی ارتقاء اور روحانی نشوونما کے لیے ہم نصابی و تفریحی سرگرمیوں کو شیڈول کا باقاعدہ حصہ بنا رکھا ہے:

  • ماہانہ بنیادوں پر بچوں کو سکائی لینڈ، جوائے لینڈ، اور دیگر باغات وتفریحی مقامات پر لے جا یا جاتا ہے۔
  • تعلیمی تفریح کے لیے بچوں کومیوزیم، واہگہ بارڈر اور پلانیٹریم جیسے معلوماتی اورتاریخی مقامات کی سیرکرائی جاتی ہے۔
  • بچوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ صحت مند رکھنے کے لیے ہر روزعصر اور مغرب کے دوران مختلف کھیلوں میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جاتا ہے، جبکہ کھیلوں کے ہفتہ وار پروگرام بھی اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
  • بچوں کی روحانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف دینی و روحانی تقریبات میں بطور خاص شریک کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسلام کی اصل روح سے آشنا ہو کر ایک اچھے مسلمان بن سکیں۔

خوارک[ترمیم]

بچوں کے لیے مناسب ومتوازن خوارک آغوش کی بنیادی ترجیحات میں ہے۔ تین وقت کے کھانے کا مینو اس طرح سے مرتب کیا گیا ہے کہ بچہ دن بھر میں اپنی جسمانی ضروریات کے مطابق غذائی اجزا حاصل کرسکے۔ کھانے کے علاوہ پھل، دودھ اور دیگر اشیاء مثلاً آئس کریم، بسکٹ اور جوس وغیرہ بھی بچوں کی غذا کا لازمی حصہ ہیں۔

لباس[ترمیم]

بچوں کے لباس وخوراک کلیتاً آغوش کی ذمہ داری ہے۔ موسمی ضروریات کے مطابق اورمختلف مذہبی و قومی تہواروں پر بھی بچوں کے لیے نئے ملبوسات تیار کروائے جاتے ہیں۔

رہائش[ترمیم]

بچوں کے لیے اعلیٰ رہائشی سہولیات موجود ہیں۔ ہر بچے کے استعمال میں انفرادی طور پر بیڈ، سٹڈی ٹیبل، سٹڈی چیئر اور الماری موجود ہے۔ جدید تعلیم وتفریح کے لیے کمپیوٹرز موجود ہیں۔ کھانا کھانے کے لیے اعلیٰ فرنشڈ ڈائیننگ روم ہے، جس میں فریزر، ٹیلی ویژن اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ بچوں کے لیے ہمہ پہلو مطالعاتی شوق کی تسکین کے لیے آراستہ لائبریری بھی موجود ہے۔

صحت[ترمیم]

صحت کی خرابی کی صورت میں ابتدائی طبی امداد کا بندوست آغوش میں ہی موجود ہے، البتہ حسب ضرورت کوالیفائیڈ اور مستند ڈاکٹرز کی زیرنگرانی علاج کیا جاتا ہے۔ بیماری کی حالت میں بچوں کی نگہداشت خصوصی طور پر کی جاتی ہے۔

کفالتی نظام[ترمیم]

یتیم و بے سہارا بچوں کی مستقل کفالت کیلئے ایک نظام وضع کیا گیا ہے۔ منہاج القرآن سے وابستہ مخیر حضرات سالانہ بنیادوں پر بچوں کی تعلیمی و کفالتی اخراجات بھجواتے ہیں، جس کی مدد سے ان کی بنیادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ اس وقت آغوش کے زیر کفالت تمام بچے ایک اعلیٰ مڈل کلاس گھرانے کے بچوں جیسی سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں، جب کہ ان کی طرز زندگی کو مزید بہتر سے بہتر بنانے کی کاوشیں جاری ہیں۔ زیرکفالت بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور شادی کا انتظام بھی کیا جائے گا۔

حوالہ جات[ترمیم]