جامع السنۃ فیما یحتاج الیہ آخر الامۃ

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
نظرثانی بتاریخ 13:22، 8 مئی 2010ء از اندلسی (تبادلۂ خیال | شراکت)
(فرق) ←سابقہ تدوین | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigation Jump to search

آج زندگی نئے ادوار میں داخل ہو کر نئے تقاضوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ہر دور کی طرح آج کی حشر سامانیوں کا مقابلہ بھی اہل علم اور رجال دین کا فرض ہے۔ آج جس طرح قرآن کی تشریحات، اطلاقات اور مفاہیم کی تعبیر نو وقت کا تقاضا ہے اسی طرح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اسلام کا دوسرا بڑا ماخذ اور ذریعہ عمل (source of inspiration) ہے اس کی حقانیت اور حجیت مسلم کرنے کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

قرآن حکیم کی طرح حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تمام علوم و معارف کا سرچشمہ ہے۔ ہر دور کے انسان نے اس سرچشمہ صافی سے راہنمائی حاصل کی۔ آج علوم معاشرت (social sciences)، علوم طبعی (natural sciences)، علوم الاقتصاد (economics)، علوم طب (medical sciences) اور دیگر کئی علوم کی نئی نئی جہات سامنے آرہی ہیں۔ نئی تہذیب اور ثقافت جنم لے رہی ہے۔ مسلم تاریخ ایک نئے موڑ پر آپہنچی ہے جہاں اسے نئے مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں وہی نور، وہی یقین اور وہی وثوق اور عرفان درکار ہے جو ہر دور میں اہل ایمان کا طرہ امتیاز رہا ہے اور اس کا حصول قرآن و سنت جیسے یقینی علم کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست، معیشت، معاشرت، تربیت، تجارت اور تدریس و تعلیم جیسے بنیادی موضوعات پر نئے سرے سے حدیث نبوی کے محققہ مجموعے مرتب کیے جائیں۔ اس میں شک نہیں کہ آج کل ہمارے مذہبی، تعلیمی اداروں اور خصوصا جامعات میں اس نوعیت کے منتخبات پر کام ہورہا ہے، مگر امتحانی ضرورت اور مخصوص تحقیقی نقطہ نظر سے ہٹ کر عامۃ الناس کی ضرورت اور افادیت کو سامنے رکھا جانا زیادہ ضروری ہے۔

متون حدیث کی ترتیب نو کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ احادیث کے مفاہیم و معانی اور تشریح کو دور جدید کے تناظر میں رکھ کر بیان کیا جائے کیوں کہ پرانی شروحات پرانے پس منظر میں لکھی گئیں، اب وہ حالات نہیں اس لیے پرانا اسلوب اپنے اندر وہ افادیت نہیں رکھتا۔

عام مسلمانوں میں کچھ غلط فہمیاں دور زوال کا تحفہ ہیں اور کچھ تنازعات کے پیچھے باقاعدہ منصوبہ بندی کار فرما ہے۔ خصوصا عقائد میں ایسے اختلافات جو انسان کو مرنے مارنے پر ابھارتے ہیں، جن کی وجہ سے اسلامی جمعیت منتشر بھی ہو رہی ہے۔ اور باطل استعمار کو اس اختلاف و انتشار سے فوائد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔

مندرجہ بالا حقائق سے واضح ہوجاتا ہے کہ عصر حاضر میں خدمت حدیث کا کتنا وسیع اسکوپ موجود ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ الاسلام مجد الدین والملۃ ڈاکٹر محمد طاہر القادری مد ظلہ العالی جیسی دانا و بینا ہستی کی نظروں سے یہ میادین علم و فکر اوجھل نہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت مرحمت فرمائی ہے کہ وہ محض علمی ذخیرے جمع نہیں کرتے بلکہ امت مسلمہ کا ایک قابل ذکر حصہ خصوصا نئی نسل ان سے مانوس بھی ہے اور ان کے اشارہ ابرو پر جان بھی چھڑکتی ہے۔ ان کے مواعظ حسنہ اور علمی و تحقیقی نشریات سے ایک جہاں مستفیض ہورہا ہے۔ یوں تو انہوں نے تفسیر، سیرت، تصوف، سائنس، معاشیات، سیاسیات، عمرانیات، اور فکریات پر بے مثال ذخیرہ سمعی، بصری اور کتابی شکل میں قوم کو دیا ہے اور یہ مقدس مشن اب بھی جاری ہے، لیکن احادیث نبوی کی خدمت کے محاذ پر جتنی عرق ریزی اور جانفشانی سے انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ یہ توفیق ہمارے دور میں عرب و عجم کے کسی شخص کے حصے میں نہیں آئی۔ بلاشبہ ان کی مجتہدانہ شان اور منصب اس بات کا متقاضی بھی تھا کہ وہ اس بنیادی دینی ضرورت کی طرف متوجہ ہوتے۔ ان میں سے ایک انتہائی اہم مجموعہ جامع السنۃ فیما یحتاج الیہ آخر الامۃ ہے جو تقریبا ڈیڑھ درجن سے زائد جلدوں پر مشتمل ہوگا اور جس میں تقریبا پچیس سے تیس ہزار کے لگ بھگ احادیث نئی ترتیب، نئے ابواب اور مروجہ تخریج کے ساتھ جمع کی جائیں گی۔

اس ذخیرہ حدیث کی ایک جلد کتاب المناقب شائع ہوچکی ہے۔ بقیہ جلدوں میں سے چند ایک ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

  1. کتاب الایمان (الجزء الاول: ایمان باللہ و الرسالت)
  2. کتاب الایمان (الجزء الثانی: ایمان بالآخرت، ایمان بالملائکۃ، ایمان بالقدر)
  3. کتاب العلم والسنۃ
  4. کتاب الصلاۃ
  5. کتاب الصوم و الزکوۃ و الحج
  6. کتاب الزھد و الرقائق و الاخلاق
  7. کتاب الآداب و الاعمال الصالحۃ
  8. کتاب الاحکام الشخصیۃ و الاقتصادیۃ و السیاسیۃ
  9. کتاب الاحکام الاداریۃ و الدستوریۃ و الدولیۃ
  10. کتاب المناقب
  11. مناقب الحرمین الشریفین

مزید دیکھیئے

فہرست تصانیف شیخ الاسلام