سانحۂ ماڈل ٹاؤن

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انقلاب کی فائنل کال کے لیے سال 2014ء میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے وطن واپسی کے اعلان کے بعد مسلم لیگ ن کی وفاقی اور صوبہ پنجاب کی حکومت شدید قسم کی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی، پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے مختلف فورمز کے کارکنان کے جذبۂ انقلاب کو دبانے کے لیے پنجاب حکومت کےاحکامات پر 16 اور 17 جون 2014ء کی درمیانی شب 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقع تحریک منہاج القرآن کے مرکز اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر دھاوہ بولا اور وہاں موجود کارکنان پر وحشیانہ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 10 کارکنان فوری طور پر جبکہ مزید 4 بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے، پولیس کی یہ کارروائی رات 2 بجے سے اگلے دن 3 بجے تک جاری رہی۔ پاکستان کے قومی اخبارات اور میڈیا چینلوں نے اس واقعہ کو سانحۂ ماڈل ٹاؤن کا نام دیا جبکہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی طرف سے اس رات پولیس کے ظلم کے باعث جاں بحق ہونے والے کارکنان کو شہدائے انقلاب کا نام دیا۔

پولیس نے ایک ایسے بے ہوش زخمی کو بے دردی سے مارا جسے ریسکیو 1122 کا عملہ کندھوں پہ اٹھائے ہسپتال لے جا رہا تھا۔

فہرست

پس منظر[ترمیم]

آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے معاً بعد 16 جون کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے اسلام آباد اور لاہور کو آگ لگانے کی دھمکی دی [1] اسی رات دو بجے پنجاب حکومت نے خود لاہور میں اس تباہی کا آغاز کر دیا، جس نے جلیانوالہ باغ کی یاد تازہ کردی۔ طالبان نے نون لیگ کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان کی مدد سے اقتدار میں آنے کے باوجود اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے فوج کو ان کے خلاف آپریشن سے کیوں نہیں روک پائی؟ پنجاب حکومت نے اسی رات تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں لاہور کے درجن بھر تھانوں سے پنجاب پولیس کے تین ہزار اہلکاروں کے ذریعہ آدھی رات کو تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے گھر پہ حملہ کرواتے ہوئے نہ صرف اپنا غصہ اتارا بلکہ طالبان کو بھی واضح پیغام دے دیا کہ وہ پاک آرمی کو ڈاکٹر طاہرالقادری کی تقریروں اور دلیلوں کی وجہ سے روک نہیں پائی۔ اور اب ان کے گھر کے باہر ہائی کورٹ کے حکم سے کئی سال قبل لگائی گئی حفاظتی باڑ کو بلڈوز کرکے طالبان کو کھلا موقع اور راستہ دے دیا کہ وہ جب چاہیں ان سے بدلہ لے سکیں۔

سیکیورٹی اقدامات کیلئے ہائی کورٹ کا حکمنامہ[ترمیم]

منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے گرد سیکیورٹی بیریئرز چار سال قبل ہائی کورٹ کے حکم سے ماڈل ٹاون پولیس کی نگرانی میں لگائے گئے تھے۔[2]

سیکیورٹی اقدامات کیلئے پولیس کا خط[ترمیم]

مہتم پولیس ماڈل ٹاؤن ڈویژن لاہور کی جانب سے مورخہ 15 اپریل 2011ء کو منتظم ادارہ منہاج القرآن کو حفاطتی انتظامات بابت ادارہ منہاج القرآن کے نام سے خط جاری کیا گیا تھا۔ [3]

سیکیورٹی اقدامات پر اہل محلہ کا ردعمل[ترمیم]

منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے قریب ہی رہنے والے محلے کی کمیٹی کے رکن اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے بتایاکہ اہل علاقہ کو کوئی مسئلہ نہیں تھا، وہ خود کمیٹی کے رکن ہیں اورباہمی مشاورت سے ہی علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے بیریئرلگانے کا فیصلہ کیاگیاجس کی عدالت نے بھی منظوری دی تھی۔ [4]

سانحہ[ترمیم]

پولیس سے مذاکرات[ترمیم]

پولیس افسران کو ماڈل ٹاؤن پولیس ہی کی جانب سے جاری کردہ وہ سرکلر دکھایا گیا، جس میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر عدالتی احکامات کے مطابق سیکورٹی انتظامات کرنے کا کہا گیا تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ بیریئرز فیصل ٹاؤن تھانے کے آفیسرز کی مشاورت اور رہنمائی میں ہی لگائے گئے ہیں مگر انہوں نے اس سرکلر کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی قائدین نے متعدد بار پولیس افسران سے بات چیت کی مگر پولیس آفیسرز نے عدالتی احکامات کو ماننے کی بجائے مزید جارحانہ رویہ اختیار کر لیا اور مرکزی سیکرٹریٹ کے سٹاف ممبران اور طلباء پر لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا۔

پولیس نے ساٹھ ستر سال کے بزرگوں کے سروں پہ لاٹھیاں برسا کر انہیں لہولہان کر دیا۔

پرتشدد سانحہ[ترمیم]

بارہ تھانوں کی پولیس کی مدد سے رات دو بجے سے جاری آپریشن کے دوران کل چار حملے کئے گئے۔ پہلے تین حملوں میں زہریلی آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا، جبکہ آخری حملے کے دوران سو سے زیادہ لوگوں پر سیدھے فائرنگ کی گئی۔

قتل عام[ترمیم]

دن گیارہ بجے کے بعد پولیس کی طرف سے چوتھا حملہ کیا گیا۔ سب سے پہلے انہوں نے موقع پر موجود دو خواتین کے سر میں گولیاں مار کر انہیں شہید کر دیا۔ آس پاس کے لوگ انہیں بچانے کے لئے آگے آئے تو بے دریغ گولیاں برساتے ہوئے 100 سے زیادہ لوگوں کو شدید زخمی کر دیا، جن میں سے چند موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ کچھ نے ہسپتال جا کر دم توڑ دیا۔

شہداء کے نام[ترمیم]

سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے چند شہداء
  1. شازیہ مرتضیٰ زوجہ غلام مرتضیٰ۔ باغبانپورہ لاہور، پاکستان۔ عمر 28 سال
  2. تنزیلہ امجد زوجہ محمد امجد۔ باغبانپورہ لاہور، پاکستان۔ عمر 30 سال
  3. محمد عمر صدیق ولد میاں محمد صدیق۔ کوٹ لکھپت لاہور، پاکستان۔ عمر 19 سال
  4. صفدر حسین ولد علی محمد۔ شیخوپورہ، پاکستان۔ عمر 35 سال
  5. عاصم حسین ولد معراج دین۔ گاؤں مناواں لاہور، پاکستان۔ عمر 22 سال
  6. غلام رسول ولد محمد بخش۔ تاج پورہ سکیم لاہور، پاکستان۔ عمر 56 سال
  7. محمد اقبال ولد خیر دین۔ چونگی امرسدھو لاہور، پاکستان۔ عمر 42 سال
  8. محمد رضوان خان ولد محمد خان۔ چکوال، پاکستان۔ عمر 20 سال (طالب علم شریعہ کالج، منہاج یونیورسٹی)
  9. خاور نوید رانجھا ولد محمد صدیق۔ کوٹ مومن سرگودھا، پاکستان۔ عمر 20 سال (طالب علم شریعہ کالج، منہاج یونیورسٹی)
  10. محمد شہباز ولد اظہر حسین۔ مریدکے، پاکستان۔ عمر 17 سال

انسانی حقوق کی پامالی[ترمیم]

  • پولیس نے اپنی دہشت گردی کے ثبوت ختم کرنے کے لئے کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے توڑے۔
  • پولیس نے زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے لئے آنے والی ایمبولینس کی گاڑیوں پہ لاٹھیاں برسائیں۔
  • پولیس نے ایک ایسے بے ہوش زخمی کو بے دردی سے مارا جسے ریسکیو 1122 کا عملہ کندھوں پہ اٹھائے ہسپتال لے جا رہا تھا۔
  • پولیس نے جون کی گرم دوپہر میں لاٹھی چارج سے زخمی ہونے والے نوجوانوں کو تپتی سڑکوں پہ گھسیٹا۔
  • پولیس نے ساٹھ ستر سال کے بزرگوں کے سروں پہ لاٹھیاں برسا کر انہیں لہولہان کر دیا۔
  • پولیس نے خواتین کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور سروں میں گولیاں مار کر شہید کر دیا۔
  • پولیس نے اپنی نگرانی میں گلوبٹ سے لوگوں کی گاڑیاں تڑوائیں، دکانوں پہ پڑے ریفریجریٹرز تڑوا کر کولڈ ڈرنک پئے اور بعد ازاں ایس پی ماڈل ٹاون طارق عزیز نے گلوبٹ کو سینے سے لگا کر تھپکیاں دیں۔
  • انسانی حقوق کی تنظیم نے سانحۂ ماڈل ٹاؤن کا نوٹس لیتے ہوئے اس سانحہ کی غیرجانبدار عدالتی انکوائری پر زور دیا۔ [5]

پولیس کے دعوے[ترمیم]

رات 2 بجے کے قریب جب پولیس اہلکار بھاری مشینری کے ہمراہ تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ کے باہر پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے دعوی کیا کہ سیکرٹریٹ اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش کے سامنے موجود سیکیورٹی انتظامات عوام کے لیے مشکل کا باعث ہیں، لہٰذا ہم ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے احکامات لے کر آئے ہیں۔ تحریک کے قائدین نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ یہ سیکورٹی بیریئرز آج سے تین سال قبل لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اور پولیس کی نگرانی میں نصب کئے گئے تھے اور مئی 2011ء میں مقامی پولیس اسٹیشن کی طرف سے جاری کردہ سیکورٹی ہدایات میں بھی ان کی تنصیب کا کہا گیا تھا۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے دونوں تحریری دستاویزات دیکھنے کے باوجود انہون نے عدالتی احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

لائیو میڈیا کوریج[ترمیم]

الیکٹرانک میڈیا نے اس پورے واقعہ اور آپریشن کی مکمل کاروائی عوام پاکستان تک پہنچاتے ہوئے ان حکمرانوں کے کالے کرتوتوں کو قوم کے سامنے عیاں کردیا۔ 13 گھنٹے سے ایک سفاکانہ واقعہ کی خبر لمحہ با لمحہ الیکٹرانک میڈیا ٹی وی سکرین پر دکھاتا رہا اور حکمرانوں کو اس کی کوئی خبر نہیں۔

رات ڈیڑھ بجے کے قریب شروع ہونے والے پولیس آپریشن کو بعض چینل رات سے ہی دکھانا شروع کر چکے تھے، تاہم صبح پانچ بجے تک تمام ٹی وی چینلوں نے پولیس کی کارروائی کو براہ راست دکھانا شروع کر دیا۔ گھروں میں بیٹھے عوام پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بےدریغ استعمال ہوتا دیکھ رہے تھے۔ پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز کی براہ راست کوریج کے باوجود دوپہر اڑھائی بجے تک جاری رہنے والے اس آپریشن کو روکنے کے لئے حکومتی نمائندہ حرکت میں نہ آیا۔ کسی وزیر، کسی مشیر، کسی رکن اسمبلی کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وزیر داخلہ، وزیر قانون یا وزیراعلی پنجاب کو فون کرکے اس قتل عام کو رکوانے مین اپنا کردار ادا کرتا۔

ٹیلیفون کالز کا ریکارڈ[ترمیم]

  • مورخہ 2 جولائی کو ARY کے پروگرام کھرا سچ میں مبشرلقمان اور اسد کھرل نے وزیراعلی پنجاب میاں شہبازشریف، ان کے پرنسپل سیکرٹری توقیرشاہ، سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ، سی سی پی او لاہور شفیق گجر، سیکریٹری داخلہ، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب، ڈی سی او لاہور کی ٹیلیفون کالز کا ریکارڈ طشت از بام کر دیا۔ [6]
  • مورخہ 9 جولائی کو جوڈیشل کمیشن نے وزیراعلی، متعلقہ حکام اور پولیس افسروں کی ٹیلیفونک گفتگو کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ [7]

تفتیشی عمل[ترمیم]

پولیس کی طرف سے مسخ شواہد[ترمیم]

پولیس نے حملے کے دوران ہر قسم کے شواہد ضائع کرنے کی پوری کوشش کی۔ کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے توڑے۔ تاہم کم و بیش تمام ٹی وی چینلز کے لائیو کوریج کرنے کی بناء پر بہت سے شواہد ضائع ہونے سے بچ گئے۔

رانا ثناء اللہ کا کردار[ترمیم]

  • رانا ثناء اللہ سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے مختلف وضاحتیں کرتے پائے گئے۔ کبھی کہا کہ پولیس کو صرف رکاوٹیں ہٹانے کو بھیجا تھا اور کبھی کہا کہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ سے ناجائز اسلحہ کے انبار برآمد ہوئے ہیں۔
  • مؤرخہ 17 جون کی شام تک سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، جس کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ نے ’’سبق سکھانے‘‘ کے احکامات صادر کئے۔ [8]
  • مورخہ 19 جون کو پولیس نے رانا ثناء اللہ کا دعوی سچا ثابت کرنے کے لئے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ سے اسلحہ کی برآمدگی ظاہر کرنے کے لئے لاہور اور شیخوپورہ سے 44 بور کی 45 رائفلیں حاصل کیں، جنہیں ایک ورکشاپ میں کلاشنکوف اور آٹومیٹک گنوں میں تبدیل کرنے کے لئے دے دیا۔ دریں اثناء یہ خبر میڈیا میں نکل جانے کی بناء پر پولیس کو اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔ [9]

استعفی / معطلی[ترمیم]

سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے تناظر میں مورخہ 21 جون کو وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ سے استعفی لے لیا۔ اسی طرح پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ [10]

پولیس کی مدعیت میں مقدمہ[ترمیم]

مؤرخہ 19 جون کو اس سانحہ کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج کر لیا گیا، جس میں ساری ذمہ داری پاکستان عوامی تحریک پر ڈالی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے بیٹے حسین محی الدین، عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈاپور، چیف سکیورٹی آفیسر سید الطاف شاہ، شیخ زاہد فیاض سمیت 56 نامزد اور 3 ہزار نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا۔ [11]

حکومتی رویہ پر پولیس بددلی کا شکار[ترمیم]

حکومت کی طرف سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ملبہ پولیس پر ڈالے جانے پر پولیس فورس کو شدید بددلی کا شکار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق سب کچھ اعلیٰ قیادت کے حکم پر گیا گیا لیکن سارا ملبہ اہلکاروں پر ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ ایسا حکم بھی دیا گیا تو طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ [12]

جوڈیشل کمیشن[ترمیم]

جوڈیشل کمیشن کا قیام[ترمیم]

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حکم پر ماڈل ٹاؤن واقعہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے جسٹس باقر علی نجفی پر مشتمل یک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، جس کے احکامات لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امتیاز علی خواجہ نے جاری کئے، جنہوں نے آج ہی نئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا حلف اٹھایا تھا۔ [13] [14]

جوڈیشل کمیشن کا رد[ترمیم]

پاکستان عوامی تحریک نے حکومت کی طرف سے تشکیل دیئے گئے جوڈیشنل کمیشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس قتل و دہشت گردی کے اصل ذمہ دار ہیں، چنانچہ ان کے مسندِ اقتدار پر رہتے ہوئے کسی قسم کی غیرجانبدارانہ تفتیش وشہادتوں کا کوئی امکان ہے نہ ہی عدل و انصاف کے تقاضوں کی بجا آوری ممکن ہے۔ لہٰذا وزیراعلیٰ پنجاب اور اس جرم میں شریک وزراء فی الفور مستعفی ہو کر خود کو قانون کے حوالے کریں۔ اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ملوث جملہ پولیس افسران اور انتظامی عہدیداران بشمول IG، DIG آپریشنز، ہوم سیکرٹری پنجاب، DCO، CCPO، SSPs، SP ماڈل ٹاؤن اور متعلقہ DSPs اور SHOs کو فوری طور پر برطرف کرکے قتل عام، دہشت گردی اور اقدامِ قتل کے جرم میں گرفتار کیا جائے۔

اس کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی آزادانہ، غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ایسے غیر متنازعہ، غیر جانبداراور اچھی شہرت کے حامل ججز جن پر متاثرین کو مکمل اعتماد ہو، پر مشتمل بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ کمیشن کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ وزیراعظم، نامزد وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت کسی بھی حکومتی و انتظامی شخصیت یا اہلکار کو طلب کرسکے۔ مزید برآں جوڈیشنل کمیشن سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے تحقیقی اداروں کے اچھی شہرت کے حامل اعلیٰ افسران جن پر متاثرین کو مکمل اعتماد ہو، پرمشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔

مورخہ 10 جولائی کو ڈاکٹر طاہرالقادری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر قائم ٹربیونل یکطرفہ، بے مقصد اور فراڈ پر مبنی ٹربیونل ہے۔ قاتل پولیس قاتل مدعی بن بیٹھی ہے۔ من گھڑت شہادتیں اور جھوٹے ثبوت پیش کئے جا رہے ہیں۔ ٹربیونل کے جج کو چاہیئے تھا کہ اس قتل عام کا حکم دینے والے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو استعفیٰ دینے اور مظلوموں کی مدعیت میں FIR درج کرنے کا حکم دیتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کے موبائل فون ریکارڈ کی طلبی پر ٹربیونل کے رجسٹرار جوادالحسن کو ہٹا دیا گیا ہے اور اس ٹربیونل کو سانحہ میں ملوث عناصر اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا اوراس قتل عام میں ملوث چین آف کمانڈ، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، آئی جی پولیس، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس پی ماڈل ٹاؤن اور SHOs میں سے کسی کو ان کے عہدوں سے تاحال ہٹایا نہیں گیا۔ [15]

جوڈیشل کمیشن کا محدود دائرہ کار[ترمیم]

سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل ٹربیونل کو پولیس سے تفتیش کرانے کے اختیارات دینے کی درخواست پر پنجاب حکومت کی خاموشی نے جوڈیشل ٹربیونل کو مزید مشکلات کا شکار کر دیا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے سیکشن گیارہ کے اختیارات دینے سے انکار کے بعد ٹریبونل کا کردار صرف انکوائری تک محدود رہ گیا، کسی پر اس اندوہناک سانحہ کی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکے گی۔ [16]

جوڈیشل کمیشن کی پیش رفت[ترمیم]

  • مورخہ 19 جون 2014 کو لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کیا تو جوڈیشل تحقیقات کے پہلے روز ہی حکام نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا بلکہ ادھوری رپورٹس کے ساتھ پیش ہو کر بحث میں الجھے رہے۔ اس روز آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا، ڈی سی او کیپٹن ریٹائرڈ عثمان اور ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ [17]
  • مورخہ 6 جولائی کو فرانزک ماہرین نے کرائم سین دیکھے بغیر رپورٹ بنانے سے انکار کردیا۔ [18] بعد ازاں مورخہ 9 جولائی کو فرانزک حکام اور جے آئی ٹی نے سا نحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں شہادتیں ضائع ہونے کی بناء پر رپورٹ دینے سے معذرت کر لی۔ [19]
  • مورخہ 9 جولائی 2014 کو جوڈیشل کمیشن نے وزیراعلی متعلقہ حکام اور پولیس افسروں کی ٹیلیفونک گفتگو کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ علاوہ ازیں کمیشن نے آئی ایس آئی اور آئی بی کے ڈائریکٹرز سے بھی رپورٹ، ریکارڈ اور ٹیکنیکل معاونت مانگ لی۔ [20] دوسری طرف پنجاب حکومت نے جوڈیشل ٹریبونل کے دائرہ کار پہ اعتراض کر دیا۔ [21]
  • مورخہ 13 جولائی 2014 کو مشترکہ تفتیشی ٹیم نے تحقیقات کے دوران چار ایس پیز اور 20 اہلکاروں کو سانحۂ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔ [22]
  • مورخہ 15 جولائی 2014 کو مشترکہ تفتیشی ٹیم نے وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ سمیت 18 شخصیات کے ٹیلیفون ریکارڈ یک رکنی ٹریبونل جسٹس علی باقر نجفی کو جمع کروا دیا۔ [23]
  • مورخہ 16 جولائی 2014 کو سانحہ کے ایک ماہ بعد جاری ہونے والی فرانزک رپورٹ میں نہ صرف منہاج القرآن کے پانچ سٹوڈنٹس پر فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا بلکہ حملہ آور پولیس والوں کی تعداد صرف 15 قرار دی گئی۔ حالانکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی براہ راست نشریات کے دوران ملک بھر کے میڈیا چینلز نے ہزاروں کی تعداد میں پولیس کو نہتے لوگوں پر بربریت کرتے دکھایا تھا۔ [24]
  • مورخہ 16 جولائی 2014کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے دعوی کیا کہ انہوں نے نہ صرف فائرنگ کرنے والے عوامی تحریک کے پانچ کارکنوں کا سراغ لگا لیا ہے برآمد ہونے والے اسلحے کی تصدیق بھی کر لی ہے۔ [25]
  • مورخہ 27 جولائی 2014 کو شہبازشریف نے اپنے بیان حلفی میں اقرار کیا کہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پولیس آپریشن کا فیصلہ کیا گیا، جس سے وہ مکمل طور پر لاعلم رہے۔ [26] [27] [28]
  • مورخہ 14 مارچ 2015ء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالےسے بنائی گئی جے آئی ٹی کا اجلاس عبدالرزاق چیمہ کی سربراہی میں ہوا جس میں شہباز شریف نے بھی اپنا بیان حلفی ریکارڈ کروایا اور کہا کہ آپریشن کی آرڈر میری طرف سے نہیں ہیں، مجھے اس کا علم صبح 9 بجے ہوا۔ اس کے ردعمل میں پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ یہ جے آئی ٹی محض ایک ’’جوک‘‘ ٹیم ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس باقری نجفی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت اس سانحہ کی ذمہ دار ہے۔[29]

جوڈیشل کمیشن کو دھمکیاں[ترمیم]

مورخہ 12 جولائی کو سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کرنے والے جج جسٹس علی باقر نجفی کو سنگین نتائج کا دھمکی آمیز خط موصول ہوا۔ [30]

ایف بی آر کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک کو آڈٹ کا نوٹس جاری[ترمیم]

پاکستان عوامی تحریک نے ایف بی آر کے نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس سیاسی انتقام کے نتیجہ کے طور پر جاری کیا گیا ہے۔ ایک تعلیمی ادارے کا آڈٹ ایف بی آر کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز احسن نے 10 ستمبر تک اس کا جواب طلبی کر لیا ہے۔ [31]

پاکستان عوامی تحریک کی ایف آئی آر[ترمیم]

  • مؤرخہ 19 جون کو ڈائریکٹر ایڈمن جواد حامد کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے درخواست دی گئی، جس میں وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلی پنجاب شہبازشریف، حمزہ شہباز، وفاقی وزراء میں سے خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، چودھری نثار خان، پرویز رشید، عابد شیر علی، پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ، سابقہ سی سی پی او لاہور شفیق گجر، ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار، ایس پی ماڈل ٹاؤن طارق عزیز اور دیگر پولیس افسران کو ملزم نامزد کیا گیا، تاہم پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کی۔ [32]
  • مؤرخہ 4 جولائی کو سیشن کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاون کا مقدمہ وزیراعلیٰ پنجاب، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ سمیت اکیس افراد کے خلاف درج کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی، جو کورٹ کی طرف سے سماعت کے لئے منظور کر لی گئی۔ [33]
  • مؤرخہ 15 جولائی کو سیشن کورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کی درخواست پر سانحہ ماڈل ٹاون کا مقدمہ درج کرنے کے لئے دائر درخواست پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم سے ریکارڈ طلب کر لیا۔ [34] [35]
  • مؤرخہ 19 جولائی کو سیشن عدالت نے سانحہ کا مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے اکستان عوامی تحریک کی درخواست کی سماعت اکیس جولائی تک ملتوی کر دی -[36] [37]

ایف آئی آر کا اندراج[ترمیم]

دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج کی گئی جو نامکمل تھی۔ [38]

آرمی چیف کی مداخلت[ترمیم]

حکومت کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر نامکمل تھی۔ جب یہ ایف آئی آر آرمی چیف جنرل رحیل شریف نے دیکھی تو حیرت کا اظہار کیا اور صحیح ایف آئی آر درج کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ [39]

ایف آئی آر میں شامل افراد[ترمیم]

  1. وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف
  2. وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف
  3. میاں حمزہ شہباز
  4. وفاقی وزیر خواجہ آصف
  5. وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق
  6. وزیر داخلہ چودھری نثار
  7. وفاقی وزیر پرویز رشید
  8. وفاقی وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی
  9. سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ
  10. سابق سی سی پی او لاہور شفیق گجر
  11. آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار
  12. ایس پی ماڈل ٹاؤن طارق عزیز[40][41]

نئی جے آئی ٹی کا قیام[ترمیم]

سی سی پی او عبدالرزاق چیمہ کی سربراہی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے حکومت پنجاب کی طرف سے نئی پانچ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ [42]

نئی جے آئی ٹی کے ممبران:

  1. سی سی پی او کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ
  2. ایس ایس پی شہزاد اکبر
  3. ڈی ایس پی خالد ابوبکر
  4. کرنل احمد (آئی ایس آئی)
  5. محمد علی (آئی بی)

نئی جے آئی ٹی کا رد[ترمیم]

ڈاکٹر طاہرالقادری اور پاکستان عوامی تحریک نے سی سی پی او عبدالرزاق چیمہ کی سربراہی میں بنائی گئی جے آئی ٹی کو مسترد کر دیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے مورخہ 14 نومبر 2014ء کو میڈیا سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وزیراعلیٰ شہباز شریف استعفیٰ نہیں دیتے اس وقت تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شفاف تحقیقات نہیں ہوسکتیں۔[43] [44]

مورخہ 20 نومبر 2014ء کو جے آئی ٹی کے ممبران نے پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ میٹنگ کی جس میں صدر پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے کہا کہ ہم عبدلرزاق چیمہ کی سربراہی میں بنائی گی جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں۔ [45]

نئی جے آئی ٹی کا منہاج القرآن کے ایڈمن ڈائریکٹر جواد حامد کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروانے کا نوٹس۔[46]

انسداد دہشتگردی عدالت کا ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری[ترمیم]

انسداد دہشتگردی عدالت کا پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈا پور، شیخ زاہد فیاض، چیف سیکورٹی آفیسر سید الطاف شاہ، ساجد محمود، میاں زاہد اسلام، تنویر سندھو اور حاجی ولایت سمیت آٹھ گن مین اور سینکڑوں کارکنان پر سانحہ ماڈل ٹاؤن واقعہ میں ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیئے ہیں۔ [47] [48]

یکطرفہ چلان کی مذمت[ترمیم]

پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈا پور نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا یکطرفہ چالان حکومت کی ایک اور دہشتگردی ہے۔[49]

مذمت / احتجاج[ترمیم]

سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مذمت[ترمیم]

سانحہ ماڈل ٹاون کے ردعمل میں کم و بیش پاکستان کی تمام جماعتوں نے نہ صرف بھرپور مذمت کی بلکہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جناح ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی، بعد ازاں مرکزی سیکرٹریٹ آ کر مرکزی قیادت سے اس سانحہ پر تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "آمریت میں بھی ایسی حرکت نہیں ہوتی، ماڈل ٹاؤن میں گھنٹوں گولیاں چلتی رہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کہاں تھے، شہبازشریف نے اب تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟" [50]
  • حکمرانوں نے شمالی وزیرستان کے فوجی آپریشن کو سبوتاژ کرنے کیلئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کرایا۔ جس میں پر امن کارکنوں کا قتل عام کرا کر ریاستی دہشت گردی کی گئی۔ چوہدری شجاعت حسین [51]
  • ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ لاہور میں حکومت کے ملی ٹینٹ ونگ نے سفاکیت کا مظاہرہ کیا، حکمران پہلے استعفیٰ دیتے ،پھر تحقیقات کرائی جاتی۔ [52]
  • پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے نماز جنازہ میں شرکت کے بعد کہا کہ پنجاب میں شریف برادران کے حکم کے بغیر چڑی پرنہیں مارتی، پولیس میں اتنی جرأت کہاں کہ اتنابڑا آپریشن کرتی؟ [53]
  • پاکستان پیپلز پارٹی کے شوکت بسرا نے نماز جنازہ میں شرکت کے بعد وزیراعلی پنجاب سے استعفی کا مطالبہ کیا۔
  • پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق مرکزی وزیراطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پاکستان کی تاریخ کا انتہائی دردناک باب ہی نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے۔ ظلم اور بربریت کی جو مثال قائم ہوئی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس کے ذمہ دار ہیں، انہیں چاہیئے کہ فوری استعفیٰ دیں۔ [54]
  • جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف پر عائد ہوتی ہے۔ [55]
  • عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاکہ جمہوریت کو اصل خطرہ شریف خاندان سے ہے، حکمران طاہرالقادری کی آمد سےخوفزدہ ہیں۔ [56]
  • ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمہ ڈاکٹر راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ صرف چند پولیس افسران کی معطلی معاملہ کا حل نہیں ہے ،ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
  • غیرمسلم برادری کے نمائندوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی پرزور الفاظ میں مذمت کی اور اسے حکومتی بوکھلاہٹ اور بربریت قرار دیا۔ مسیحی رہنماوں کا ایک وفد جن میں مسیحی راہنماء فادر فرانسس ندیم، فادر عنائت برناڈ، فادر مائیکل، ڈاکٹر کنول فیروز، یوئیل بھٹی، پاسٹر سلیم، ریورنڈ فادر پاسکل پولوس، ریورنڈ راکی، ریورنڈ عمانویل کھوکھر، قیصر جوزف، جبکہ ہندو راہنماء پنڈت بھگت لال اور سکھ برادری کے نمائندہ سردار رمیش سنگھ (ایم پی اے) بھی شامل تھے۔ [57]
  • سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا کہ بحیثیت ایک قانون دان میں ایسا کوئی بھی ملک تلاش کرنے سے قاصر ہوں جہاں 16 لاشیں اور 130 زخمی ہونے کے باوجود ایک بھی گرفتاری عمل میں نہ آئی ہو۔ ہمارے نظام انصاف کے سامنے یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ [58]
  • سردار عتیق احمد، آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر (سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر) نے کہا کہ پرامن نہتے اور بے گناہ لوگوں کا قتل مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے، شریف برادران نے بجائے جمہوریت کے بادشاہت قائم کر رکھی ہے۔ [59]
  • شاہ محمود قریشی، مرکزی رہنماء پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پاکستان کی تاریخ کا انتہائی درد ناک باب ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس واقعہ کا ذمہ دار ہے۔ انہیں چاہیے فوری استعفیٰ دیں۔ یہ سیاست کا نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے۔ ظلم یہ ہے کہ قاتلوں نے مظلوموں پر ہی FIR درج کرا دی۔ [60]
  • سردار آصف احمد علی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے جنرل ڈائر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوامی تحریک کے پرامن اور نہتے کارکنوں کا قتل عام کیا ہے۔ ان شہداء کا انصاف عدالتوں اور اسمبلیوں میں نہیں بلکہ اللہ کے پاس اور سڑکوں پر ملے گا۔ [61]
  • صاحبزادہ حامد رضا، چیئرمین سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ قاتل اعلیٰ ہیں۔ شہدا کے وارثوں کو یقین دلاتے ہیں کہ انکا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔ [62]
  • راجہ ناصر عباس، رہنماء مجلس وحدت مسلمین نے کہا کہ حکمران حق حکمرانی کھو چکے ہیں۔ خواتین کا حجاب نوچنا اور قتل کرنا مرد نہیں نامرد کرتے ہیں۔ ظالم حکمرانوں نے سانحہ ماڈل ٹائون میں یہی کچھ کیا ہے۔ [63]
  • محترمہ راحیلہ ٹوانہ (ایم پی اے) نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔ حکومتی سربراہی میں اگر دہشت گردی کی جائے تو پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا۔ [64]
  • نذیر احمد جنجوعہ، رہنماء جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ موجودہ ظالم حکمرانوں کی تاریخ ہے جنہوں واجپائی کی آمد پر نہتے کارکنوں کو سڑکوں پر گھسیٹا اور مارا اور اب سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ریاستی دہشت گردی اور ظلم و بربریت کی انتہا کی ہے۔ [65]
  • میاں محمود الرشید، رہنما پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ 17جون کو سانحہ کے وقت پنجاب اسمبلی میں زبر دست احتجاج کیا گیا اور آئندہ اجلاس میں اپنی تحریک التوا کے تحت اس اہم ایشو پر بحث کی جائے گی۔ [66]
  • مائیکل جاوید، ایم پی اے سندھ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وجہ سے میں نے مسلم لیگ ن سے استعفیٰ دے دیا ہے اور بہت سارے مسلم لیگ ن کے عہدیداران استعفیٰ دے کر عوامی تحریک میں شامل ہو جائیں گے۔ [67]
  • جے سالک، مسیحی رہنماء نے کہا کہ مارشل لاء کی گود میں پلنے والے حکمرانوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر قتل عام کر کے آمریت کے مظالم کو شرمندہ کر دیا ہے۔ یہ ظالم حکمرانوں کی طرف سے 20 کروڑ عوام کو بیدار ہونے کا پیغام ہے۔ ملک بھر کی مسیحی برادری ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ کھڑی ہے۔ [68]
  • وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی بلوچستان کو اسی مشن کیلئے پنجاب تعینات کیا ہے۔ کمیشن جرم کو چھپاتے ہیں اس لئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سڑکوں پر سزا ملے گی۔ جمشید دستی [69]
  • عوامی تحریک کے پرامن کارکنوں کی شہادت سے قصاص لینا چاہیے۔ 14 شہداء کا مطلب ہے کہ انسانیت کا 14 بار قتل عام ہوا ہے۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر [70]
  • پہلے دہشت گرد وردیوں میں نہیں ہوتے تھے لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی وردیوں میں ریاستی دہشت گردی کی گئی۔ اس واقعہ کے بعد عوام کے اندر پولیس کے خلاف سخت نفرت پائی جا رہی ہے۔ علامہ حامد سعید کاظمی، سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور [71]
  • سانحہ ماڈل ٹاؤن نے غلامی کے دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔ نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں انسانیت کا قتل کیا گیا ہے۔ بابا حیدر زمان، رہنماء تحریک ہزارہ [72]
  • سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث حکومتی عناصر ذرا شرمندہ نہیں ہو رہے۔ یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔ اجمل وزیر [73]
  • حکمران سانحہ ماڈل ٹاؤن میں براہ راست ملوث ہیں اور جلد تختہ دار پر نظر آ رہے ہیں۔ احمد رضا قصوری، رہنماء آل پاکستان مسلم لیگ [74]

پاکستان بھر میں احتجاج[ترمیم]

  • اس سانحہ کی مذمت کے لئے پاکستان بھر کے شہروں میں پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے گئے، جن میں ڈسکہ [75] پاکپتن شریف [76] کوہاٹ [77] اٹک [78] کوئٹہ [79] مردان [80] شامل ہیں۔

بیرون ملک احتجاج[ترمیم]

  • بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی مذمت کے لئے اپنے ملکوں میں واقع پاکستانی سفارت خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے اور سفیروں کو مذمتی قراردادیں پیش کیں، جن میں سپین [81] فرانس [82] فرینکفرٹ جرمنی [83] برلن جرمنی [84] ڈنمارک [85] آسٹریا [86] اور یونان [87] شامل ہیں۔

کُل جماعتی کانفرنس[ترمیم]

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مذمت پر مبنی کل جماعتی کانفرنس مورخہ 29 جولائی کو تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پہ منعقد ہوئی، جس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے غیرجانبدار تفتیش کے مطالبہ کیا گیا۔ [88]

مشترکہ اعلامیہ میں وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مطالبے میں کہا گیا کہ اگر وہ ازخود مستعفی نہ ہوں تو صدرمملکت اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے انھیں عہدے سے ہٹا دیں۔ [89]

یوم شہداء[ترمیم]

اعلان[ترمیم]

مورخہ 3 اگست کو تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پہ جنرل کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مورخہ 10 اگست کو یوم شہداء کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ [90] پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے مزید کہا کہ:

  • انقلاب پتھر پر لکیر ہے، اگست ختم ہونے سے قبل موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی۔
  • فون کال ریکارڈ کے مطابق شہبازشریف اور نوازشریف کا قاتل ہونا ثابت ہوچکا ہے۔
  • مقدمہ لاہور 16شہادتوں اور مقدمہ اسلام آباد 18کروڑ عوام کے معاشی حقوق کا مقدمہ ہے۔
  • مقدمہ لاہور کا فیصلہ قصاص اور مقدمہ اسلام آباد کا فیصلہ انقلاب ہے۔
  • شریف برادران اچھی طرح جانتے ہیں کہ مجھے دنیا کی کوئی طاقت نہ خرید سکتی ہے، نہ ڈرا سکتی ہے۔
  • وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میں بےخبر تھا، کیا وہ ابھی تک بےخبر ہیں؟ ابھی تک انہی کے حکم سے FIRدرج نہیں ہوئی۔
  • سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد اگر چاہتے تو جاتی عمرہ کے محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے، مگر ہم نے امن کا دامن نہ چھوڑا۔
  • اگر حکومت نے عوام پر تشدد کیا تو یوم شہداء ماڈل ٹاون کی بجائے جاتی عمرہ کے محل میں ہوگا۔

ردعمل[ترمیم]

مورخہ تین اگست 2014ء کی پریس کانفرنس کے بعد حکومتی عہدیداران کے بیانات:

  • وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
  • گورنر پنجاب چوہدری سرور نے پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری سے کہا کہ مطالبات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔[91]
  • حکومت اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے کہ ان کے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے مطابق ڈاکٹر طاہرالقادری ٹیکس چوروں کے سربراہ ہیں۔ [92]
  • وفاقی وزیر قانون رانا مشہود کی بے ہودہ گفتگو کے بعد اے آر وائی نیوز نے ایک ڈاکومنٹری تیار کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومتی وزراء بوکھلاہٹ کا شدید شکار ہیں۔ [93]

آن لائن روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طالبان کی طرف سے نون لیگ کی حکومت کو دھمکی
  2. سیکیورٹی بیریئرز لگانے کیلئے ہائی کورٹ کے احکامات
  3. سیکیورٹی اقدامات کیلئے پولیس کا خط
  4. روزنامہ پاکستان: سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا بیان
  5. انسانی حقوق کی تنظیم نے غیرجانبدار عدالتی انکوائری پر زور دیا۔
  6. اے آر وائے: سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وزیراعلیٰ براہ راست ملوث، حقائق منظرعام پر
  7. ڈان نیوز: ٹریبونل نے وزیراعلی، متعلقہ حکام اور پولیس افسروں کی ٹیلیفونک گفتگو کا ریکارڈ طلب
  8. روزنامہ پاکستان: سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی اندرونی کہانی منظرعام پر آگئی
  9. روزنامہ پاکستان: پولیس کی طرف سے ایک اور شرمناک کارروائی،اسلحہ کی برآمدگی دکھانے کی تیاریاں
  10. بی بی سی: رانا ثناء اللہ کا استعفی اور توقیر شاہ کی برطرفی
  11. نوائے وقت: ایس ایچ او کی مدعیت میں طاہرالقادری کے بیٹے سمیت تین ہزار سے زائد افراد پر دہشت گردی کا مقدمہ
  12. دنیا نیوز: حکومتی رویہ پر پولیس بددلی کا شکار
  13. سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے یک رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل
  14. حکومت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کا قیام کا حکم۔
  15. سانحہ ماڈل ٹاؤن پر قائم ٹربیونل عدل و انصاف اور شہداء کے خون سے مذاق ہے
  16. جوڈیشل کمیشن کا محدود دائرہ کار
  17. روزنامہ پاکستان: عدالتی تحقیقات کے پہلے روز ہی حکام ادھوری رپورٹ کیساتھ کمیشن کے سامنے پیش
  18. فرانزک ماہرین نے کرائم سین دیکھے بغیر رپورٹ بنانے سے انکار کردیا
  19. سانحہ ماڈل ٹاؤن، شہادتیں ضائع ہوگئیں: فرانزک حکام ، جے آئی ٹی کی رپورٹ دینے سے معذرت
  20. جوڈیشل کمیشن نے وزیراعلی متعلقہ حکام اور پولیس افسروں کی ٹیلیفونک گفتگو کا ریکارڈ طلب
  21. پاکستان عوامی تحریک کے بعد پنجاب حکومت بھی ٹریبونل پہ معترض
  22. چار ایس پیز اور 20 اہلکاروں کے گرد گھیرا تنگ، کارروائی کا فیصلہ
  23. اٹھارہ شخصیات کے ٹیلیفون ریکارڈ ٹریبونل کے سپرد
  24. فرانزک رپورٹ میں سٹوڈنٹس کی طرف سے فائرنگ کا الزام
  25. پولیس پر فائرنگ بارے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کا دعوی
  26. تحقیقاتی ٹریبونل میں شہبازشریف کا بیان حلفی جمع کروا دیا گیا۔
  27. Tribune: I was kept out of loop, Shahbaz tells judicial tribunal
  28. The nation: I ordered police to retreat before shooting: CM
  29. جے آئی ٹی محض ’’جوک‘‘ ٹیم ہے۔ خرام نواز گنڈا پور۔
  30. سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کرنے والے جج کو سنگین نتائج کی دھمکی
  31. ایف بی آر کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک کو آڈٹ کا نوٹس جاری
  32. تھانہ فیصل ٹاؤن میں ایف آئی آر کیلئے درخواست
  33. سیشن کورٹ میں ایف آئی آر کی درخواست
  34. دی فرنٹیئر پوسٹ: پاکستان عوامی تحریک کی درخواست پر تحقیقاتی ٹیم سے ریکارڈ طلب
  35. دی نیوز: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج صفدر بھٹی نے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم سے رپورٹ طلب کرلی۔
  36. پاکستان عوامی تحریک کی درخواست کی سماعت اکیس جولائی تک ملتوی
  37. منہاج القرآن کے وکلاء کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹس پر بحث کی ہدایت
  38. نامکمل ایف آئی آر
  39. صحیح اندراج ایف آئی آر
  40. سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کا اندراج
  41. سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کا اندراج
  42. سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے نئی JIT کا قیام
  43. ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے نئی جے آئی ٹی کا رد
  44. نئی جے آئی ٹی کا رد
  45. نئی جے آئی ٹی کے ساتھ پہلی میٹنگ
  46. بیان حلفی جمع کروانے کا نوٹس
  47. ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری
  48. ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری
  49. طرفہ چلان کی مذمت
  50. دنیانیوز: ماڈل ٹاؤن میں گھنٹوں گولیاں چلتی رہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کہاں تھے؟ عمران خان
  51. شمالی وزیرستان کے فوجی آپریشن کو سبوتاژ کرنے کیلئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کرایا گیا۔ چوہدری شجاعت
  52. ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرخالد مقبول صدیقی کا تعزیتی بیان
  53. پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ کا تعزیتی بیان
  54. راول نیوز: فردوس عاشق اعوان کا شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
  55. جماعت اسلامی کی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی پرزور الفاظ میں مذمت
  56. عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا تعزیتی بیان
  57. غیر مسلم برادری کے نمائندوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی پرزور الفاظ میں مذمت
  58. سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کا حکمرانوں کے لیے سوالیہ نشان؟
  59. بے گناہ لوگوں کا قتل مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ سردار عتیق
  60. ظلم یہ ہے کہ قاتلوں نے مظلوموں پر ہی FIR درج کرا دی۔ شاہ محمود قریشی
  61. وزیر اعلیٰ نے جنرل ڈائر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوامی تحریک کے پرامن اور نہتے کارکنوں کا قتل عام کیا ہے۔ سردار آصف احمد علی
  62. وزیر اعلیٰ قاتل اعلیٰ ہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا
  63. حکمران حق حکمرانی کھو چکے ہیں۔ راجہ ناصر عباس
  64. سانحہ ماڈل ٹاؤن قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔ راحیلہ ٹوانہ
  65. سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ریاستی دہشت گردی اور ظلم و بربریت کی انتہا کی ہے۔ نذیر احمد جنجوعہ
  66. سانحہ کے وقت پنجاب اسمبلی میں زبر دست احتجاج کیا گیا۔ میاں محمود الرشید
  67. سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وجہ سے میں نے مسلم لیگ ن سے استعفیٰ دیا۔ مائیکل جاوید
  68. سانحہ ماڈل ٹاؤن ظالم حکمرانوں کی طرف سے 20 کروڑ عوام کو بیدار ہونے کا پیغام ہے۔ جے سالک
  69. سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سڑکوں پر سزا ملے گی۔ جمشید دستی
  70. 14 شہداء کا مطلب ہے کہ انسانیت کا 14 بار قتل عام ہوا ہے۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر
  71. سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی وردیوں میں ریاستی دہشت گردی کی گئی۔ علامہ حامد سعید کاظمی
  72. سانحہ ماڈل ٹاؤن نے غلامی کے دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔ بابا حیدر زمان
  73. سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث حکومتی عناصر ذرا شرمندہ نہیں ہو رہے۔ اجمل وزیر
  74. حکمران سانحہ ماڈل ٹاؤن میں براہ راست ملوث ہیں۔ احمد رضا قصوری
  75. ڈسکہ: سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی یاد میں تین روزرہ سوگ کیمپ
  76. پاکپتن شریف: سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کیلئے قرآن خوانی
  77. کوہاٹ: سانحۂ ماڈل ٹاؤن پر شدید احتجاج
  78. اٹک: سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
  79. کوئٹہ: پنجاب حکومت کی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
  80. مردان: سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
  81. سپین: پاکستانی کمیونٹی کا سانحہ لاہور کے خلاف قونصلیٹ جنرل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
  82. فرانس: سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
  83. جرمنی (فرینکفرٹ): لاہور میں ہونے والی ریاستی دہشتگردی کے خلاف مظاہرہ
  84. جرمنی (برلن): پنچاب پولیس کی ظلم و بربریت کے خلاف پاکستانی سفارتخانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ
  85. ڈنمارک: سانحہ لاہور کے خلاف پاکستانی ایمبیسی کے سامنے پاکستانی تنظیمات کااحتجاجی مظاہرہ
  86. آسٹریا: پاکستانی کمیونٹی کا پاک ایمبیسی کے سامنے شہدائے لاہور سے اظہار یکجہتی کے لئے پرامن مظاہرہ
  87. یونان: سفارتخانہ پاکستان کے سامنے سانحہ لاہور پر منہاج القرآن انٹرنیشنل یونان کی جانب سے احتجاج
  88. سانحہ ماڈل ٹاون میں قتل و غارت گری کیخلاف آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ
  89. بی بی سی: آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
  90. دس اگست کو یوم شہداء منانے کا اعلان
  91. گورنر پنجاب کا طاہرالقادری کو فون
  92. نواز شریف خود ٹیکس چوروں کے سردار ہیں
  93. حکومت کا ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف پروپیگنڈا


یہ ابھی نامکمل مضمون ہے۔
آپ اس میں ترمیم کر کے اسے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

مزید دیکھئے[ترمیم]